ہواوے افسر سے متعلق متنازع بیان پر کینیڈا نے اپنے سفیر کو برطرف کردیا

کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے چین میں تعینات کینیڈین سفیر جان میک کلم کو کینیڈا میں گرفتار ہواوے افسر سے متعلق متنازع بیان پر عہدے سے برطرف کردیا۔


امریکی خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق جسٹن ٹروڈو نے بتایا کہ انہوں نے جان میک کلم کو جمعہ کی رات کو مستعفی ہونے کی ہدایت کی تھی اور ان کا استعفیٰ بھی منظور کرلیا تھا۔

جان میک کلم نے گزشتہ ہفتے ٹورنٹو میں چینی میڈیا کو دیے گئے بیان میں کہا تھا کہ مینگ وانژو کو امریکا کی تحویل میں دینے کے نتائج خوش آئند نہیں ہوں گے۔

جان میک کلم نے کہا تھا کہ اگر امریکا کینیڈا میں گرفتار ہواوے ایگزیکٹو کی تحویل کی درخواست خارج کردے تو یہ بہت اچھی بات ہوگی۔

انہوں نے کہا تھا کہ اس کیس میں سیاسی مداخلت ہوسکتی ہے کہ اگر امریکا چین سے ایک تجارتی معاہدہ کرلے جس کے تحت مینگ وانژو امریکا کی تحویل میں نہیں رہیں گیں اور اس کے بدلے چین میں گرفتار 2 کینیڈین شہریوں کو رہا کردیا جائے گا۔

تاہم 24 جنوری کو جان میک کلم نے اپنا بیان واپس لیتے ہوئے کہا تھا انہوں نے مینگ وانژو کے کیس متعلق غلط بیان دیا تھا انہوں نے

خیال رہے کہ یکم دسمبر کو وانکوور ایئرپورٹ پر ہواوے کمپنی کے بانی کی بیٹی اور چیف فنانشل ایگزیکٹو کی گرفتاری کی وجہ سے کینیڈا اور چین کے تعلقات میں شدید کشیدگی برقرار ہے۔

جسٹن ٹروڈو نے اپنے کہا کہ بیجنگ میں قائم کینیڈین سفارت خانے کے نائب سرابرہ جم نیکل چین میں کینیڈا کی نمائندگی کریں گے۔

اس سے قبل جسٹن ٹروڈو نے سفیر کو مسترد کیے جانے کے مطالبات کو مسترد کیا تھا لیکن ان کے اس بیان کے انہیں برطرف کردیا۔

خیال رہے کہ جسٹن ٹروڈو اور کینیڈا کی وزیر خارجہ نے اس بات پر اصرار کیا ہے کہ کینیڈا کی حکومت مینگ وانژو کے کیس میں سیاسی مداخلت نہیں کرسکتی۔

کینیڈا میں کنزرویٹو پارٹی کے رہنما اینڈریو سچیر نے کہا کہ جان میک کلم کو بہت پہلے ہی برطرف کردیا جانا چاہیے تھا، ان کے بیان نے مینگ وانژو کے کیس میں سیاسی مداخلت کے خدشات پیدا کردیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جان میک کلم نےمختلف میڈیا میں مختلف بیانات کے ذریعے کینیڈا کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے۔

جان میک کلم کے بیان نے اکثر افراد کو حیرت میں مبتلا کردیا تھا اور اس بات پر تشویش ظاہر کی تھی شاید کینیڈا تعلقات میں قائم کشیدگی میں کمی کے لیے چین کو پیغام دے رہا ہے۔

اس سے قبل جان میک کلم نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے متعلق متنازع بیان دیے تھے۔

خیال رہے کہ ہواوے کی چیف فنانشل ایگزیکٹو مینگ وانژو کو امریکا کی درخواست پر گرفتار کیا گیا تھا اور ان پر امریکا کے ساتھ دھوکا دہی کے الزامات عائد ہیں، جو ثابت ہونے کی صورت میں انہیں 30 سال قید کی سزا بھی ہو سکتی ہے۔

چین نے مینگ وانژو کی گرفتاری کو ’انتہائی گھناؤنا‘ قدم قرار دیتے ہوئے کینیڈا کو خبردار کیا تھا کہ اگر انہیں فوری طور پر رہا نہ کیا گیا تو سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔

مذکورہ واقعہ کے بعد سے چین میں اب تک 3 کینیڈین شہری گرفتار کیے جاچکے ہیں، چین نے گرفتار شدہ 2 کینیڈین شہریوں پر ’چین کی قومی سلامتی کو نقصان پہنچانے والی سرگرمیوں میں ملوث‘ ہونے کے الزامات بھی عائد کیے ہیں۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎