ٹرمپ, پیوٹن خفیہ ملاقاتوں پر ڈیموکریٹس کا سخت ردعمل

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو روسی صدر پیوٹن سے خفیہ ملاقاتوں پر سخت ردعمل کا سامنا ہے اور ڈیموکریٹ ارکان نے اس معاملے پر سخت سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ ری پبلکن ارکان دفاع کرتے ہوئے نظر آئے۔


وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری سارا سینڈرز نے امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کی اسٹوری کو مسترد کردیا جس میں کہا گیا تھا کہ ٹرمپ نے اپنے ترجمان سمیت قریبی افراد کو بھی روسی صدر سے ملاقاتوں کے بارے میں کچھ نہیں بتایا تھا۔

اس اخباری رپورٹ پر سارا سینڈرز کا کہنا تھا کہ اسٹوری اس قدر غلط ہے کہ اس کا جواب دینے کی بھی ضرورت نہیں ہے، تاہم امریکی صدر نے ایک نیوز چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ پیوٹن سے ملاقات ایسی ہی تھی جیسی ہر صدر کی ہوتی ہے اور ہم نے اسرائیل اور تل ابیب کو محفوظ بنانے کی باتوں سمیت کئی موضوعات پر گفتگو کی، میں کچھ نہیں چھپا رہا۔

اس موقع پر امریکی صدر سے سوال کیا گیا کہ کیا آپ نے پہلے کبھی روس کے لیے کام کیا یا اب کر رہے ہیں؟ تو ٹرمپ نے مشتعل ہوکر جواب دیا تھا کہ یہ ان سے اب تک پوچھا جانے والا سب سے توہین آمیز سوال ہے۔

دوسری جانب واشنگٹن پوسٹ نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا تھا کہ گزشتہ دو برس کے دوران امریکا اور روسی صدر کی 5 طویل ملاقاتیں ہوئیں جن میں سے کسی کی تفصیلات پیش نہیں کی گئیں جس پر صدر ٹرمپ نے اس اسٹوری کو مضحکہ خیز تو قرار دیا مگر اس کی تردید نہیں کی۔

اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے اہم رکن سینیٹر ڈک ڈربن نے کہا کہ ملاقاتوں کے بارے میں بہت سے سوالات موجود ہیں، ٹرمپ کے جی بی کے ایک سابق ایجنٹ سے اس قدر میل جول رکھتے ہی کیوں ہیں؟ وہ کیوں پیوٹن کے بہترین دوست ہیں؟

میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر ’’جان ڈیلےنے‘‘ کہا کہ روس سے ٹرمپ کے تعلقات انتہائی مشکوک ہیں، ہم نے عرصے سے کوئی ایسا صدر نہیں دیکھا جو پیوٹن کا ایسا حامی ہو۔

سینیٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی کے سربراہ ایڈم شف نے کہا کہ کیا ہمیں نہیں دیکھنا چاہیے کہ ہمارے صدر کے لیے ’’سب سے پہلے امریکا‘‘ ہے۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎