کیا مولانا فضل الرحمٰن گرینڈ اپوزیشن بنانے میں کامیاب ہو گئے؟

جمعیت علمائے اسلام(ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے اپوزیشن جماعتوں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) اور مسلم لیگ (ن) کو ایک مرتبہ پھر اکٹھا کرنےکے لیے 24 گھنٹوں کے دوران پی پی پی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری سے 2 ملاقاتیں کرلی۔


مولانا فضل الرحمن نے گرینڈ اپوزیشن الائنس کو وقت کی ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا کہ آصف علی زرداری نے نواز شریف سے ملاقات کے لیے فوری طور پر حامی بھرنے سے معذرت کرلی۔

واضح رہے کہ جعلی بینک اکاؤنٹس کیس میں آصف علی زرداری، ان کی ہمشیرہ فریال تالپور سمیت دیگر ملزمان نامزد ہیں جن کے خلاف 35 ارب روپے کی مشکوک ٹرانزیکشنز کا الزام ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ برس 24 دسمبر کو اسلام آباد کی احتساب عدالت نے نواز شریف کو نیب کی جانب سے دائر فلیگ شپ ریفرنس میں بری کردیا تھا جبکہ العزیزیہ ریفرنس میں 7 سال قید کی سزا سنادی تھی۔

جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ آصف زرداری سے ملاقات کا کوئی ایجنڈا نہیں تھا اور نہ ہی میڈیا کو پیشگی اطلاع کی۔

انہوں نے آصف علی زرداری سے ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’موجودہ حالات میں اپوزیشن کا اکٹھا ہونا انتہائی ضروری ہے اس لیے آصف زرداری سے کہا کہ ایک دن تو ویسےہی ملناہےتو ابھی مل لیں۔

اس حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ’آصف علی زرداری تیار ہوتے ہیں تو ن لیگ کے رہنما تیار نہیں ہوتے‘۔

مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ آصف علی زرداری سے گرینڈ اپوزیشن پر گلہ کیا اور اب حزب اختلاف کے پاس گرینڈ اپوزیشن کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ تجاویز کی روشنی میں اے پی سی بلائی جائے گی اور قائد حزب اختلاف کو پیغام بھیجا کہ اپوزیشن جماعتوں سے تجاویز لیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’الیکشن میں تاریخ کی بدترین دھاندلی ہوئی، تب ہم نے کہا تھا کہ حلف نہ اٹھایا جائے لیکن اپوزیشن کی دیگر جماعتوں نے ہماری رائے سے اتفاق نہیں کیا‘۔

جے یو آئی کے سربراہ نے حکومت پر تنقید کی کہ 24 ارب سے زیادہ کے زرمبادلہ اب نصف سے کم ہوچکا ہے اور اقتصادی مضبوطی کسی بھی ملک کے استحکام کے لئے لازم ہے۔

انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت ریاست مدینہ کے خدوخال اور تقاضوں سے واقف نہیں اور ملک کو سیکولر اور لبرل پاکستان کی طرف لے جارہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’حکومت کی پالیسیوں کی وجہ سے پاک چین دوستی رسک پر ہے جبکہ 70 برس پرانی دوستی میں دوری پیدا ہورہی ہیں‘۔

مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ کرتارپور کوریڈور قادیانیوں کے مرکز جا کے ختم ہوتا ہے، قوم کے سامنے صورتحال واضح کیوں نہیں کہ جارہی۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’ وزارت داخلہ نے نوٹیفکیشن جاری کیا ہے جس میں اسرائیلیوں کو مشروط آنے کی اجازت دی گئی، اسرائیلی طیارہ پاکستان آتا ہے تو اسے چھپایا کیوں جاتا ہے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’کشمیر میں ظلم پرحکومتی خاموشی پر میڈیا کیوں سوال نہیں کرتا، سکھوں قادیانیوں کو راہداری دی جارہی ہے کشمیریوں کو نہیں‘۔

دوسری جانب ذرائع نے دعویٰ کیا کہ مولانا فضل الرحمن نے آصف علی زرداری کو نواز شریف سے ملاقات کی تجویز دی اور ان سے ملاقات پر آمادہ کرنے کی کوششیں بھی کی۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎