دی لیجنڈ آف مولاجٹ کی ریلیز سے پہلے مشکلات میں مزید اضافہ

دی لیجنڈ آف مولاجٹ کی ریلیز میں ابھی کئی ماہ باقی ہے مگر اس کی مشکلات میں بظاہر کوئی کمی نہیں آسکی ہے اور اب فلم کے پروڈیوسرز کو قانونی نوٹس کا سامنا ہے۔


1979 کی فلم مولا جٹ کے پروڈیوسر سرور بھٹی کے بیٹے متقی سرور نے دعویٰ کیا ہے کہ دی لیجنڈ آف مولاجٹ کاپی رائٹس کی خلاف ورزی ہے۔

ڈان سے بات کرتے ہوئے متقی سرور نے کہا 'فلم وار کی ریلیز کے بعد اس کے ڈائریکٹر بلال لاشاری نے اعلان کیا تھا کہ وہ دی لیجنڈ آف مولا جٹ بنانے جارہے ہیں اور میرے والد جنہوں نے مولا جٹ بنائی تھی، نے ڈائریکٹر کو کہا کہ چونکہ وہ ٹریڈ مارک اور کاپی رائٹس کے مالک ہیں، تو بلال لاشاری اسے ہم سے رائٹس خریدے بغیر نہیں بناسکے، دوسرا آپشن مل کر فلم بنانے کا تھا'۔

2017 میں سرور بھٹی نے کاپی رائٹس کی خلاف ورزی کے حوالے سے کام کرنے والے ٹربیونل میں درخواست دائر کرتے ہوئے دی لیجنڈ آف مولا جٹ کی نمائش کے خلاف حکم امتناعی حاصل کرلیا تھا۔

متقی سرور باہو فلمز کارپوریشن کے سربراہ ہیں اور ان کا کہنا تھا کہ ٹربیونل نے بلال لاشاری اور پروڈیوسرز کو اس ٹائٹل، کرداروں اور ڈائیلاگز کے استعمال سے روکا تھا، یہ مقدمہ تاحال زیرسماعت ہے۔

ان کی جانب سے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) میں بھی نئی فلم کی ٹیم کے خلاف درخواست دائر کی گئی اور ایک تحقیقات جاری ہے۔

جمعے کو کاپی رائٹس ٹربیونل نے پروڈیوسر عمارہ حکمت، ڈائریکٹر بلال لاشاری، مصنف ناصر ادیب، نئی فلم کی کاسٹ، سیکرٹری اطلاعات اور تمام سنسر بورڈز کے سربراہان کو توہین عدالت کے نوٹسز جاری کیے۔

متقی سرور نے دعویٰ کیا 'میں نے انتباہی نوٹسز فلم سے متعلق ہر فرد کو بھیجے تاکہ وہ اس پراجیکٹ سے خود کو اس وقت تک دور رکھیں جب تک یہ زیرسماعت ہے، مگر کسی نے ان کی پروا نہیں کی'۔

ڈان سے بات کرتے ہوئے سرور بھٹی نے کہا 'لوگوں کو یہ سمجھنا چاہئے کہ کاپی رائٹس کی اہمیت جائیداد کے حقوق جتنی ہی ہوتی ہے، بیرون ملک اگر اسٹارز کو سزا دی جاسکتی ہے تو ایسا ہمارے میں بھی ہونا چاہئے، وہ قانون سے بالاتر نہیں'۔

خیال رہے کہ دی لیجنڈ آف مولا جٹ عید الفطر کے موقع پر پاکستان کے ساتھ ساتھ چین میں بھی بیک وقت ریلیز کی جائے گی۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎