شادی کے بعد لوگوں کی زندگی کیسے بدل جاتی ہے؟

ہوسکتا ہے کہ اس کے خراٹے آپ کو سر پکڑنے پر مجبور کردیں یا ناپسندیدہ عادات دیوانگی کی سرحد تک پہنچا دیں مگر آپ کا شریک حیات روزمرہ کی بنیاد پر آپ کی زندگی بچانے کا باعث بھی ہوتا ہے۔


ایک نئی تحقیق کے مطابق درمیانی عمر کے شادی شدہ افراد اپنے غیر شادی شدہ ساتھیوں کے مقابلے میں جسمانی طور پر زیادہ فٹ، مضبوط گرفت اور تیز چلتے ہیں۔

لندن کالج یونیورسٹی کی اس تحقیق میں امریکا اور انگلینڈ کے 20 ہزار سے زائد افراد کا جائزہ لینے کے بعد دریافت کیا گیا کہ شادی شدہ افراد مطلقہ افراد کے مقابلے میں زیادہ تیز چلتے ہیں جبکہ مطلقہ خواتین کی گرفت کمزور ہوجاتی ہے۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ طلاق کا تناﺅ کا اثر جسمانی صحت پر بھی مرتب ہوتا ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں جس میں سائنسدانوں نے شادی کا تعلق اچھی صحت سے جوڑا ہو، اس سے قبل ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا تھا کہ کینسر کے شکار شادی شدہ مریضوں میں اس بیماری سے بچنے کا امکان کنوارے افراد کے مقابلے میں زیادہ ہوتا ہے۔

کیلیفورنیا یونیورسٹی کی اس تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ شادی شدہ افراد کو زیادہ بہتر سماجی معاونت حاصل ہوتی ہے جو ان کو اس جان لیوا مرض سے بچانے میں کنجی ثابت ہوتی ہے۔

مگر کیا آپ کو شادی کے درج ذیل یہ خفیہ طبی فوائد معلوم ہیں ؟

شادی کرنا مرد اور خواتین دونوں میں ہارٹ اٹیک کا خطرہ کم کردیتا ہے۔ یہ دعویٰ فن لینڈ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا۔ تحقیق کے مطابق شادی شدہ خواتین میں ہارٹ اٹیک کا خطرہ 65 فیصد تک جبکہ مردوں میں 66 فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔ فن لینڈ کی ٹیورکو یونیورسٹی کی اس تحقیق میں مزید بتایا گیا کہ شادی سے ہر عمر کے مرد اور خواتین میں خون کی شریانوں کے مسائل سے موت کا خطرہ کم ہوتا ہے اور اس کی وجہ شادی شدہ افراد کی صحت مند زندگی گزارانا، زیادہ دوست اور سوشل سپورٹ حاصل ہونا ہوتا ہے۔

شادی شدہ جوڑے کے اندر خطرناک سرگرمیوں کا حصہ بننے کا امکان کم ہوتا ہے جیسے جان لیوا انداز سے ڈرائیونگ یا نقصان دہ اشیاء(نشے کا استعمال) سے دوری وغیرہ۔ اوہائیو اسٹیٹ یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے مطابق جب لوگوں کی شادی ہوجاتی ہے تو ان کے اندر خطرناک اقدامات کے رجحان میں نمایاں کمی آتی ہے اور اس کی وجہ ممکنہ طور پر ان لوگوں کا احساس ہوتا ہے جو ان پر منحصر ہوتے ہیں (بیوی، شوہر اور بچے) اور اس وجہ سے وہ اپنے تحفظ کا خاص خیال رکھتے ہیں۔

جریدے امریکن اسٹروک ایسوسی ایشن میں شائع ایک تحقیق کے مطابق شادی شدہ مردوں میں جان لیوا فالج کے دورے کا خطرہ تنہا مرد کے مقابلے میں 64 فیصد تک کم ہوتا ہے۔ تحقیق کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی کہ شریک حیات سے اچھا تعلق فالج سے بچاﺅ کے امکانات پر اثرانداز ہوتا ہے، یعنی اگر آپ شادی سے ناخوش ہیں تو فالج کے خطرے میں کوئی خاص کمی نہیں آتی۔ محققین کے مطابق غیرشادی شدہ افراد کے مقابلے میں شادی شدہ افراد کو فالج کی صورت میں فوری طبی امداد میسر آجانا اس کی وجہ ہو، کیونکہ فالج کے بعد جتنی دیر سے طبی امداد ملتی ہے، موت کا خطرہ اتنا ہی بڑھ جاتا ہے۔

شکاگو یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے مطابق شادی کے بندھن میں بندھ جانا لوگوں کے اندر ذہنی تناﺅ یا مایوسی کے خطرے کو نمایاں حد تک کم کردیتا ہے۔ تحقیق کے مطابق طویل المعیاد تعلق ان ہارمونز میں تبدیلی لاتا ہے جو تناﺅ کا باعث بنتے ہیں۔ محققین کے مطابق اگرچہ شادی کے بعد کی زندگی تناﺅ سے بھرپور ہوتی ہے مگر شادی شدہ افراد کے لیے اپنی زندگیوں کے دیگر مسائل پر قابو پانا کافی حد تک آسان ہوتا ہے۔

ایک اچھا شریک حیات بڑی سرجری کے بعد ریکور کرنے کے میں مددگار ثابت ہوتا ہے جیسے دل کا بائی پاس وغیرہ۔ روچسٹر یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے مطابق خوش باش جوڑوں کا بڑی سرجری کے 15 سال بعد بھی زندہ ہونے کا امکان تنہا افراد کے مقابلے میں تین گنا زیادہ وتا ہے۔ محققین کے مطابق اچھا رشتہ لوگوں کو تندرست رہنے میں مدد دیتا ہے تاہم ایسا اسی وقت ہوتا ہے جب جوڑا ایک دوسرے سے مطمئن ہو۔

شادی شدہ مرد اور خواتین میں متعدد دماغی امراض کا خطرہ کم ہوتا ہے۔ ایک امریکی تھقیق کے مطابق شادی شدہ جوڑے کے اندر ڈپریشن کی شرح کم ہوتی ہے اور دیگر نفسیاتی عوارض لاحق ہونے کا خطرہ کنوارے افراد یا مطلقہ افراد کے مقابلے میں نمایاں حد تک کم ہوتا ہے۔

اگر شریک حیات سے تعلق خوشگوار ہے تو آپ کی نیند بھی نامطمئن جوڑوں یا تنہا افراد کے مقابلے میں زیادہ بہتر ہوتی ہے۔ پٹسبرگ یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے مطابق اگر شادی کے بعد تعلق خوش باش ہو تو لوگوں کی نیند کا معیار بہتر ہوجاتا ہے تاہم ناخوش جوڑوں میں یہ نیند متاثر ہونے کا خدشہ ہوتا ہے اور اگر نیند پوری نہ ہو تو موٹاپے سمیت چڑچڑے پن اور دیگر امراض کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎