بھارت: 12 افراد پر طالبہ کے 'گینگ ریپ' کا الزام

بھارت کی ریاست لودھیانہ میں 12 افراد نے 20 سالہ طالبہ کا گینگ ریپ کردیا۔


ادھر متاثرہ خاتون کے مطابق وہ اور ان کا دوست کار میں سفر کررہے تھے کہ موٹر سائیکل سوار 5 افراد نے ان کی گاڑی پر پتھراؤ کیا اور انہیں ایک پل پر روک لیا۔

بعد ازاں ملزمان انہیں ایک پلاٹ پر لے گئے جہاں انہوں نے مزید افراد کو بلا لیا جنہوں نے خاتون کا گینگ ریپ کیا۔

متاثرہ خاتون کا کہنا تھا کہ گینگ ریپ کے بعد ملزمان نے خاتون کے دوست کو کال کر کے بلایا اور اس سے خاتون کو رہا کرنے کے عوض ایک لاکھ روپے تاوان طلب کیا۔

متاثرہ لڑکی نے پولیس کو بتایا کہ جب کوئی بھی اسے لینے کے لیے واپس نہیں آیا تو ملزمان نے اسے گاڑی کی چابیاں دیں اور موقع سے فرار ہوگئے جس کے بعد خاتون نے پولیس سے رابطہ کیا۔

متاثرہ خاتون کی شکایت پر پولیس نے نامعلوم ملزمان کو مقدمے میں نامزد کرلیا تاہم انہیں شناخت نہیں کیا جاسکا۔

پولیس کے مطابق 'ملزمان کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے گئے ہیں تاہم تاحال کامیابی حاصل نہیں ہوئی'۔

انہوں نے مزید بتایا کہ متاثرہ خاتون اپنے دوست کے ہمراہ چاکلیٹ ڈے منانے کے لیے ایک فارم ہاؤس کے لیے جارہے تھے کہ ملزمان نے انہیں راستے میں روک کر اغوا کرلیا۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ ابتدا میں خاتون تھانے میں واقعے کی اطلاع دینے گئیں تو موقع پر موجود پولیس افسر نے ان کی شکایت پر کسی قسم کی کارروائی نہیں کی۔

متاثرہ خاتون کی جانب سے مذکورہ پولیس افسر کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق پولیس ملزمان کی تلاش کے لیے واقعے کے مقام کے اطراف میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد لینے کی کوشش بھی کررہی ہیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ چند سالوں کے دوران بھارت میں زیادتی کے واقعات میں کئی گنا اضافہ ہوچکا ہے، لیکن ایک معمر شخص کی جانب سے ریپ کے اس واقعے کے بعد پوری ریاست میں غم و غصہ پایا جاتا ہے۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎