بھارت: 4 سالہ لڑکی کا ریپ، سزائے موت کے مجرم کے ڈیتھ وارنٹ جاری

جبل پور/بھوپال: بھارت کے ضلع ساٹنا کی عدالت نے 4 سالہ لڑکی کے ریپ میں ملوث پرائمری اسکول ٹیچر کی سزائے موت پر عمل درآمد کرانے کے لیے ڈیتھ وارنٹ جاری کردیئے۔


حکام کے مطابق سپریم کورٹ آگر مذکورہ سزا پر حکم امتناعی جاری نہیں کرتی تو مجرم مہندرا سنگھ گوند کی سزائے موت پر 2 مارچ کو جبل پور جیل میں عمل درآمد کرایا جائے گا۔

واضح رہے کہ مذکورہ کیس میں مجرم کو 7 ماہ میں سزا سنائی گئی ہے اور اگر مجرم کی سزا پر عمل درآمد ہوجاتا ہے تو یہ بچوں کے ریپ کی روک تھام کے لیے بنائے گئے قانون کے مطابق ملک میں پہلی سزا ہوگئی۔

مدیحا پردیش، بھارت کی وہ واحد ریاست ہے، جس نے دسمبر 2017 میں میں 12 سال سے کم عمر لڑکی کے ریپ کے ملزم کے لیے موت کی سزا مقرر کی تھی۔

مجرم نے 30 جون 2018 کو لڑکی کو اغوا کرکے اسے جنگل میں ریپ کا نشانہ بنایا تھا اور اسے مردہ سمجھتے ہوئے وہیں دفن کردیا تھا، بعد ازاں لڑکی کے اہل خانہ نے کچھ ہی گھنٹوں کی تلاش کے بعد اس کی نشاندہی کی تھی اور لڑکی کو تشویشناک حالت میں ہسپتال منتقل کیا تھا۔

واقعہ منظر عام پر آنے کے بعد ریاست نے لڑکی کو علاج کی سہولت فراہم کرنے کے لیے طیارے کے ذریعے دہلی کے ہسپتال منتقل کیا تھا۔

اس واقعے پر ہندوستان میں غم و غصہ پایا جاتا تھا جبکہ پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو گرفتار کرلیا تھا۔

یاد رہے کہ لڑکی کے ریپ میں ملوث مجرم کو مقامی عدالت نے 19 ستمبر کو سزائے موت سنائی تھی جس کے بعد اپیل پر مدیحہ پردیش کی ہائیکورٹ کے ڈویژنل بینچ نے 25 جنوری 2019 کو سزا کو برقرار رکھا تھا۔

ہائیکورٹ کی جانب سے سزائے موت برقرار رکھے جانے کے بعد ڈسٹرکٹ اور سیشن عدالت نے مجرم کے ڈیتھ وانٹ جاری کیے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ 18 ستمبر 2018 کو سپریم کورٹ ایک مجرم کی سزائے موت پر حکم امتناعی جاری کرچکی ہے جس پر 4 سالہ لڑکی کے قتل کا الزام تھا۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎