بھارت، افغانستان، 5 وسطی ایشائی ممالک میں مذاکرات

نئی دہلی: بھارت اور 5 وسطی ایشیائی ممالکی نے افغانستان کے ہمراہ دہشت گردی کی ہر طرح سے مذمت کرنے کا اظہار کرتے ہوئے عالمی سطح پر امن کے لیے اس خطرے سے لڑنے کے لیے تعاون پر رضامندی کا اظہار کیا ہے۔


یہ بیان پہلی مرتبہ ہونے والے بھارت-وسطی ایشیا مذاکرات کے بعد مشترکہ اعلامیے میں سامنے آیا۔

بھارت کے وزیر خارجہ سشما سوراج نے افغانستان، کازقستان، کرگزستان، تاجکستان، ترکمنستان اور ازبکستان کے وزرا خارجہ کے ہمراہ مذاکرات میں شرکت کی۔

واضح رہے کہ وسطی ایشیائی ممالک شنگھائی تعاون تنظیم کے بھی رکن ہیں جس میں بھارت نے حال ہی میں شمولیت اختیار کی ہے۔

مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ ’تمام ممالک نے ہر طرح کی دہشت گردی کی مذمت کی اور عوام اور دنیا بھر کی معیشت کے لیے خطرے کا سبب بننے والی دہشت گردی کی روک تھام میں تعاون کرنے کے عزم کا اظہار کیا‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’تمام ممالک نے سیکیورٹی، استحکام اور ترقی کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے باہمی حمایت، مشترکہ حل اور دیگر امور میں تعاون کی یقین دہانی کرائی‘۔

انہوں نے کہا کہ ’شریک ممالک نے معاشی تعاون کو بڑھانے اور باہمی تجارت اور موزوں حالات پیدا کرنے کے لیے حقیقی مواقع پیدا کرنے اور باہمی تعاون مضبوط کرنے کا اظہار کیا‘۔

انہوں نے باہمی تجارت، سرمایہ کاری بڑھانے، صنعتوں میں جدت، توانائی، انفارمیشن ٹیکنالوجی، فارماسیوٹیکل، زراعت اور تعلیم کے فروغ کے لیے مواقع پیدا کرنے پر بھی بحث کی۔

انہوں نے سرمایہ کاری کے ماحول کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ اجلاس میں خطے اور بھارت کے شہروں اور وسطی ایشیا کے ممالک میں باہمی طور پر منافع بخش معیشت بنانے پر خصوصی توجہ دی گئی۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎