دنیا کا پہلا آفیشل 5 جی اسمارٹ فون متعارف

دنیا کا پہلا آفیشل 5 جی اسمارٹ فون متعارف کرا دیا گیا ہے جو کہ چینی کمپنی ویوو کا تیار کردہ ہے۔


ویوو ایپکس 2019 کانسیپٹ اسمارٹ فون گزشتہ سال کے ایپکس 2018 کا اپ ڈیٹ ورژن ہے اور پہلا فائیو جی فون ہونے کے ساتھ ساتھ اس کی خاص بات اس میں کسی قسم کا بٹن نہ ہونا ہے۔

ویسے تو موٹرولا کو پہلا 5 جی اسمارٹ فون متعارف کرانے کا اعزاز حاصل ہے مگر بنیادی طور پر وہ فورجی فون ہے جسے موڈیول کے ذریعے فائیو جی پر اپ گریڈ کرنا ممکن ہوگا مگر تاحال وہ ٹیکنالوجی صارفین کے لیے دستیاب نہیں۔

ویوو کا یہ کانسیپٹ فون ہوسکتا ہے کہ اس شکل میں صارفین کے لیے دستیاب نہ ہو مگر یہ کمپنی اسے اگلے ماہ موبائل ورلڈ کانگریس میں لے کر جانے والی ہے جہاں اس کے دیگر فیچرز کی تفصیلات سامنے آئیں گی۔

گزشتہ سال کی طرح ایپکس فون کی طرح میں اسکرین ٹو باڈی ریشو حیران کن حد تک کم ہے اور بیزل نہ ہونے کے برابر ہیں۔

اس میں کوئی بٹن یا پورٹ بھی نہیں یعنی ہیڈفون جیک تو غائب ہے ہی اس کے ساتھ ساتھ یو ایس بی سی پورٹ بھی نہیں اور اس کی چارجنگ بیک پر نصب مقناطیسی کنکٹر سے ممکن ہوگا، جسے ڈیٹا ٹرانسفر کے لیے بھی استعمال کیا جائے گا۔

ویوو کا کوئی فون آج تک وائرلیس چارجنگ فیچر کے ساتھ نہیں آیا اور ایپکس 2019 کے لیے بھی کمپنی نے پالیسی تبدیل نہیں کی۔

اس فون میں کوالکوم کا ایکس 50 فائیو جی موڈیم استعمال کیا گیا ہے اور کمپنی کا کہنا ہے کہ ایک نئی تیکنیک کے ذریعے مدربورڈ اسپیس کو 20 فیصد بڑھایا گیا ہے تاکہ فائیو جی کے لیے ضروری پرزوں کی جگہ بن سکے اور ڈیزائن بھی متاثر نہ ہو۔

اس فون میں کوالکوم اسنیپ ڈراگون 855 پراسیسر، 256 جی بی اسٹوریج اور 12 جی بی ریم دی گئی ہے۔

اس فون کے بیک پر ڈوئل کیمرہ سیٹ اپ ہے تاہم کمپنی نے اس کی تفصیلات فراہم نہیں کیں مگر فرنٹ پر کوئی کیمرہ نہیں۔

اس فون کا ایک اور خاص فیچر ان ڈسپلے فنگرپرنٹ سنسر کے لیے مختص جگہ کو بڑھانا ہے اور کمپنی کا دعویٰ ہے لگ بھگ پوری اسکرین پر فنگرپرنٹ اسکیننگ ممکن ہے۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎