کیا بلاول بھٹو گرفتار ہونے والے ہے؟

اسلام آباد: پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے سیئنر رہنما خورشید شاہ نے کہا ہے کہ پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی گرفتاری کے لیے دل گردا چاہیے۔


ان خیالات کا اظہار انہوں نے وفاقی دارالحکومت میں میڈیا نمائندوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

صحافی کی جانب سے بلاول بھٹو زرداری کی ممکنہ گرفتاری سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں پی پی پی رہنما کا کہنا تھا کہ بلاول بھٹو زرداری کی گرفتاری ایک خطرناک کھیل ہوگا جس سے ملک افرا تفری کا شکار ہوجائے گا۔

اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ یپپلز پارٹی کے چیئرمین کی گرفتاری کے لیے دل گردا چاہیے۔

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ عمران خان نے اب تک ملک میں سیاست دانون کی گرفتاری کے علاوہ کچھ نہیں کیا۔

خورشید شاہ نے کہا کہ سیاستدانوں سے جیلیں بھرنا پاکستان کے لیے اچھا نہیں ہے جبکہ وزیرِاعظم عمران خان چاہتے ہیں کہ ان سے الیکشن مہم کے دوران قوم سے کیے گئے ان کے وعدوں کے بارے میں کوئی سوال نہ کرے۔

صوبے میں گورنر راج لگانے سے متعلق سوال کے جواب میں خورشید شاہ نے کہا کہ صوبے میں گورنر راج لگانا ممکن نہیں کیونکہ آئین اور قانون میں اس کی کوئی گنجائش موجود نہیں ہے، صرف مارشل لا کے ذریعے آئین ختم کرکے گورنر راج لگایا جاسکتا ہے۔

پی پی پی رہنما نے مزید کہا کہ ان کی جماعت آئین ختم کرنے کی کوشش کو کامیاب نہیں ہونے دے گی۔

خورشید شاہ نے کہا کہ آئین وفاق کی مضبوطی کی ضمانت ہے، تاہم اگر اسے اس کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی گئی تو ملکی سالمیت کو خطرہ لاحق ہوگا۔

جعلی اکاؤنٹس کیس میں سپریم کورٹ کی ہدایت پر 172 ملزمان کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں ڈالے جانے پر تبصرہ کرتے ہوئے خورشید شاہ نے کہا کہ پارٹی قیادت کے خلاف مفروضوں کی بنیاد پر کیسز بنائے گئے ہیں، صوبے میں ان ہاؤس تبدیلی کی ضرورت نہیں ہے۔

پی پی پی رہنما نے کہا کہ ایسا لگ رہا ہے جسے ملک میں 'ون پارٹی سسٹم' بنانے کی کوشش کے ساتھ ساتھ سویلین مارشل لا لگانے کی کوشش کی جارہی ہے۔

اپنی بات کی وضاحت دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس نظام سے صرف ایک پارٹی مضبوط ہوگی جبکہ باقیوں کو کمزور کردیا جائے گا۔

انہوں نے وزیرِ اعظم پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان عوامی مینڈیٹ کے ذریعے اقتدار میں نہیں آئے بلکہ انہیں لایا گیا اور انہیں کس طرح لایا گیا ہے، اس کے بارے میں سب جانتے ہیں۔

خورشید شاہ کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان ملک میں بحران اور غیریقینی کی صورتحال پیدا کررہے ہیں۔

خیال رہے کہ جعلی اکاؤنٹس کیس میں سپریم کورٹ کی ہدایت پر 172 افراد کے نام ای سی ایل میں شامل کیے گئے ہیں جن میں سابق صدر آصف علی زرداری، بلاول بھٹو زرداری، ملک ریاض، مراد علی شاہ، قائم علی شاہ اور فریال تالپور کے نام شامل ہیں.

فہرست منظر عام پر آنے کے بعد پیپلزپارٹی کی جانب سے ردِ عمل سامنے آیا تھا جس میں پارٹی رہنماؤں کا کہنا تھا کہ پارٹی قیادت کا نام ای سی ایل میں ڈالنا کوئی نئی بات نہیں، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎