کیا آئی جی اسلام آباد بھی قبضہ گروپ میں شامل ہیں؟

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے آئی جی اسلام آباد کے سرکاری رہائش پر غیر قانونی قبضے سے متعلق کیس کی سماعت کی۔


سماعت کے آغاز میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے آئی جی اسلام آباد کو روسٹرم پر بلا لیا اور انہیں مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ 'آپ لال مسجد آپریشن کرنے کے لیے یہاں آئے تھے لیکن فلیٹس پر قبضہ کر لیا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اگر قانون پر عمل کرنے والوں نے ہی خلاف ورزی کرنی ہے تو کام کیسے چلے گا؟

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ جس جگہ پر آئی جی اسلام آباد کی رہائش گاہ ہے وہاں کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کے ممبر کا گھر تھا جس پر آئی جی اسلام آباد نے جواب دیا کہ 'میرے علم میں یہ بات ابھی آئی ہے۔

عدالتِ عظمیٰ نے آئی جی اسلام آباد کی غیر قانونی رہائش گاہ کا معاملہ وزیر ہاؤسنگ کو دیکھنے کی ہدایت کردی۔

سی ڈی اے کے وکیل نے عدالت میں اپنے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد میں 200 کواٹرز پولیس نے تاحال خالی نہیں کیے۔

سیکریٹری ہاؤسنگ نے عدالت میں کہا کہ کراچی میں سرکاری گھر خالی کرانے کے لیے حکومت نے اراکین اسمبلی پر مشتمل کمیٹی بنائی۔

انہوں نے مزید بتایا کہ کراچی کے علاوہ 563 سرکاری رہائش گاہیں غیر قانونی قبضے میں تھیں جن میں سے 516 گھر واپس لے لیے ہیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کراچی میں امن و عامہ کی صورتحال پیدا ہو گئی تھی، اس لیے انہیں خالی کروانے میں مزید 2 مہینے کا وقت دیا۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎