جعلی اکاؤنٹس کیس میں جے آئی ٹی نے نیا مطالبہ کر دیا

اسلام آباد: جعلی اکاؤنٹس کیس میں بنی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) نے سپریم کورٹ سے زرداری گروپ پرائیوٹ لمیٹڈ اور اومنی گروپ کے اثاثے منجمد کرنے کے احکامات جاری کرنے کی درخواست کی ہے۔


جے آئی ٹی کی تازہ رپورٹ میں انہوں نے کہا ہے کہ دونوں گروپس نے اثاثوں کو غلط قرضوں، حکومتی فنڈز، کک بیکس اور مجرمانہ کارروائیوں کے ذریعے جمع کی ہیں۔

قبل ازیں جے آئی ٹی نے عدالت عظمیٰ میں اپنی رپورٹ جمع کراتے ہوئے پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری، ان کے بیٹے بلاول زرداری، ہمشیرہ فریال تالپر اور وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سمیت 172 افراد کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل میں) میں ڈالنے کی تجویز دی تھی۔

تاہم 31 دسمبر کو عدالت نے اس کیس کی سماعت کرتے ہوئے ای سی ایل میں ڈالنے کے فیصلے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کابینہ کو اپنے 27 دسمبر کے فیصلے پر نظر ثانی کا حکم دیا تھا۔

تاہم تازہ رپورٹ میں جے آئی ٹی کا کہنا تھا کہ تحقیقات میں ملنے والے اہم ترین شواہد اس بات کا ثبوت ہے کہ 1981 میں 600 روپے اور 2001 میں 6 ہزار روپے کے ادا کیے گئے کیپیٹل سے آغاز ہونے والے بالترتیب زرداری اور اومنی گروپ نے اثاثوں کو غلط قرضوں، حکومتی فنڈز، کک بیکس اور جرائم کی کارروائیوں سے اکھٹے کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’شواہد کے مطابق ان گروپس کی حوالہ ہنڈی کے ذریعے لانڈرنگ کرنے کی تاریخ ہے‘۔

رپورٹ میں عدالت عظمیٰ سے ان دونوں گروپس کے اثاثے منجمد کرنے کا حکم دے اور ساتھ ساتھ سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) سے اعتراض کی گئیں کسی بھی کمپنی کے ڈائریکٹرز کی تبدیلی کے ذریعے ملکیت کی تبدیلی نہ کرے۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎