جاوید ہاشمی نے نواز شریف کی سزا کے متعلق اہم پیش گوئی کردی

 سیئنیئر سیاست دان جاوید ہاشمی نے پیش گوئی کی ہے کہ نواز شریف کو قومی احتساب بیورو (نیب) کے فلیگ شپ اور العزیزیہ کیس میں سزا ہوگی کیونکہ ’ادارے انہیں (کیسز) غلط ثابت نہیں ہونے دی گے‘۔


میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ نیب کا مقصد سیاستدانوں سے ان کی وفاداریاں تبدیل کروانا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’اگر نواز شریف کو سزا ہوئی تو میں یہ فیصلہ منظور نہیں کروں گا‘۔

جنوبی پنجاب صوبہ بنانے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ یہ منصوبہ آخری مراحل میں ہے اور صرف پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے یو ٹرن کی وجہ سے یہ کام رک سکتا ہے تاہم اس معاملے پر حکومت کے لیے یو ٹرن لینا آسان نہیں ہوگا۔

شہباز شریف کی جنوبی پنجاب صوبہ بنانے کے مطالبے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ’انہوں نے اس کی پہلے ہی پیش گوئی کردی تھی‘۔

انہوں نے کہا کہ ’پارلیمنٹ میں تقریباً تمام جماعتوں نے اس کی حمایت کا اعلان کردیا ہے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ شہباز شریف پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے سربراہ بننے کے بعد قومی اسمبلی کے اجلاس کے لیے خود اپنے پروڈکشن آرڈر دے سکیں گے۔

انہوں نے اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان دنیا بھر میں تقاریر کر رہے ہیں تاہم قومی اسمبلی کے اجلاس سے غائب ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’عمران خان پارلیمانی کے بجائے صدارتی نظام کی حمایت کرتے ہیں وہ اس قابل ہی نہیں کہ اسمبلی میں سوالات کا جواب دے سکیں‘۔

جاوید ہاشمی نے کہا کہ میڈیا کو سینسر شپ کا سامنا اور میڈیا ورکرز جنہوں نے اس انڈسٹری کو منافع بخش بنایا کونوکریوں سے نکالا جارہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘میڈیا ورکرز کو یا تو نوکریوں سے نکالا جارہا ہے یا ان کی تنخواہ کاٹی جارہی ہے، میڈیا کی آزادی کے لیے جدو جہد کرنے والے افراد کی تعداد میں کمی آرہی ہے‘۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎