میلبرن ٹیسٹ میچ کا فیصلہ ہو گیا

میلبرن میں انڈیا نے آسٹریلیا کو 137 رنز سے شکست دے کر چار میچوں کی سیریز میں ایک کے مقابلے میں دو میچوں کی ناقابل تسخیر سبقت حاصل کر لی ہے اور اس کے ساتھ وہ بورڈر-گاوسکر ٹرافی کو اپنے پاس رکھنے کی اہل ہو گئی ہے۔


اس جیت کے ساتھ انڈیا نے 150 ٹیسٹ میچ جیتنے کی تاریخ رقم کی ہے جبکہ 1981 کے بعد وہ پہلی بار میلبرن کے گراؤنڈ پر میچ جیتنے میں کامیاب رہا ہے۔

انڈیا نے کھیل کے چوتھے دن آسٹریلیا کو آؤٹ کرنے کے لیے اضافی وقت لیا لیکن پیٹ کمنس نے اپنی عمدہ بیٹنگ سے ان کی جیت کو پانچویں دن کے لیے ٹال دیا۔

پانچویں دن بارش کی وجہ سے کھیل وقت پر شروع نہ ہو سکا اور امپائر نے لنچ کا اعلان کر دیا۔

بہر حال جب لنچ کے بعد کھیل شروع ہوا تو صرف پانچ اوورز میں کھیل کا نتیجہ برآمد ہو گیا اور انڈیا نے محض تین رنز دے کر آسٹریلیا کے باقی دو بلے بازوں کو آٰؤٹ کر دیا۔

پہلے کمنس کو 63 رنز پر جسپریت بمراہ نے آوٹ کیا جبکہ اگلے ہی اوور میں ایشانت شرما نے ناتھن لیون کو آوٹ کر دیا۔

میچ میں نو وکٹیں حاصل کرنے پر بمراہ کو مین آف دا میچ کا حقدار قرار دیا گیا۔

انڈیا کے کپتان وراٹ کوہلی نے کہا کہ اس جیت نے انھیں مزید اعتماد فراہم کیا ہے۔ انھوں نے کہا: ہم یہاں رکنے والے نہیں ہیں۔ اس جیت نے ہمیں سڈنی میں مزید مثبت کرکٹ کھیلنے کے لیے مزید اعتماد دیا ہے۔ ہم نے کھیل کے ہر شعبے میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہم ٹرافی کو اپنے پاس رکھنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔'

کرکٹ کے تجزیہ کار آدیش کمار نے بتایا کہ انڈیا نے جیت حاصل ضرور کی ہے لیکن اسے جس طرح جیتنا چاہیے تھا اس طرح جیتنے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔

انھوں نے کہا: 'انڈیا کے مقابلے میں آسٹریلیا ابھی کمزور ٹیم ہے اور جس طرح کی سبقت پہلی اننگز میں انڈیا نے لی تھی جیت کا فرق زیادہ ہونا چاہیے تھا۔ لیکن جیت تو بہرحال جیت ہوتی ہے۔'

انڈیا نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا اور چیتیشور پجارا کی سنچری اور نئے اوپنر مینک اگروال، کپتان وراٹ کوہلی اور روہت شرما کی نصف سنچریوں کی بدولت اس نے سات وکٹ کے نقصان پر 443 رنز بناکر اننگز کے خاتمے کا اعلان کیا۔

یہ بھی پڑھیے

جواب میں آسٹریلیا کی ٹیم انڈیا کے تیز بالرز کے سامنے ٹک نہ سکی اور محض 151 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی۔ جسپریت بمراہ نے 33 رنز کے عوض چھ وکٹیں لیں اور ٹیسٹ میچ پر انڈیا کی گرفت مضبوط کر دی۔

کپتان وراٹ کوہلی نے آسٹریلیا کو فالو آن دینے کے بجائے دوبارہ بیٹنگ کا فیصلہ کیا۔لیکن دوسری اننگز میں انڈیا بہتر کارکردگی کا مظاہرہ نہ کر سکی اور پیٹ کمنس کے سامنے بے بس نظر آئی۔ بہر حال اس نے 106 رنز پر آٹھ کھلاڑیوں کے آوٹ ہونے کے بعد اننگز ڈیکلیئر کر دی اور آسٹریلیا کو جیت کو لیے 399 رنز کا مشکل ہدف دیا۔ کمنس نے 27 رنز کے عوض چھ وکٹیں لیں۔

آسٹریلیا نے محتاط آغاز کیا لیکن اسے وقفے وقفے سے نقصان اٹھانا پڑا اور پیٹ کمنس کے علاوہ کوئی بھی بلے باز نصف سنچری نہ بنا سکا۔ اور کھیل کے پانچویں دن آسٹریلیا کی پوری ٹیم 261 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی۔

آسٹریلیا کی جانب سے پیٹ کمنس نے بھی میچ میں نو وکٹیں لیں اور عمدہ بیٹنگ بھی کی۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎