محمد حفیظ جیت گئے، ہاشم آملہ ہار گئے

پہلی اننگز مکمل ہوئی تو مائیک ہیزمین نے ہاشم آملہ سے سوال کیا کہ یہ وکٹ اور یہ ٹارگٹ کہیں کم تو نہیں پڑ جائے گا؟ جس پر ہاشم آملہ نے جواب دیا کہ نہیں، جس طرح کی سستی اس وکٹ میں ہے، یہاں کسی بلے باز کو ایڈجسٹ کرنے کے لیے کافی ساری ڈاٹ بالز کھیلنا پڑتی ہیں۔


اس تناظر میں ہاشم آملہ کا خیال درست تھا کہ تعاقب کا دباؤ اور وکٹ کی چال بازی اس ہدف کو ناممکن نہیں تو کم از کم مشکل ضرور بنا دے گی۔ ویسے بھی جو شہرت پاکستانی بیٹنگ لائن اپنا چکی ہے اس اعتبار سے یہ مشکل ہدف ہی تھا۔

جنوبی افریقہ نے بیٹنگ میں کوئی نمایاں غلطی نہیں کی۔ جہاں ڈی کوک اور ڈیل سٹین کی خدمات میسر نہ تھیں، وہاں ہاشم آملہ کے سامنے پہلا ہدف یہی تھا کہ بغیر کسی ڈرامائی صورت حال میں پہنچے، ایک قابلِ قدر ٹوٹل تشکیل دیا جائے۔

سمیع چوہدری کے مزید کالم پڑھیے

مگر اس خلجان میں ہاشم آملہ اور ان کے بیٹنگ پارٹنر ڈسن یہ بھول گئے کہ احتیاط جب حد سے گزرتی ہے تو خوف میں ڈھل جاتی ہے۔ وکٹیں نہ گنوانے کی جو احتیاط انھوں نے پہلے 30 اوورز میں اپنائی، وہی آخری 20 اوورز میں سرفراز کے بولنگ یونٹ کے لیے تقویت کا باعث بن گئی۔

اننگز میں ایک وقت یہ دکھائی دے رہا تھا کہ 275 کا ٹوٹل عین ممکن ہو گا مگر اننگز کے درمیانی اوورز میں جس طرح کا کنٹرول پاکستانی بولرز نے دکھایا، اس کے بعد آملہ اور ڈسن کی احتیاط سست روی میں بدل گئی۔ بجا کہ جنوبی افریقہ نے وکٹیں نہیں گنوائیں مگر اس ٹریک پہ چلتے ہوئے ضروری رنز گنوا بیٹھے۔

اگر صرف عمران طاہر کی بجائے ایک اور سپنر بھی اس لائن اپ میں ہوتا تو 267 کا ہدف پہاڑ سا بن جاتا۔ کیونکہ جنوبی افریقہ کی سبھی وکٹوں میں سے سینٹ جارج پارک کی وکٹ ہی ایسی ہے کہ گویا پاکستان اپنے ہوم گراونڈ پہ کھیل رہا ہو۔

اس وکٹ سے پیسرز کو کوئی خاص مدد نہیں ملا کرتی۔ یہی کلید ہے کہ پاکستان اس گراونڈ پر آج تک کوئی میچ ہارا نہیں ہے۔ یہاں اننگز کے درمیانی اوورز میں اگر سپنرز کو درست طریقے سے استعمال کیا جائے تو بلے بازوں کے لیے زندگی دشوار ہو جاتی ہے۔

مگر اس کے لیے صرف ایک سپیشلسٹ سپنر کافی نہیں ہوتا۔ پاکستان کی یہاں کامیابی کی بنیادی وجہ یہی رہی کہ 50 میں سے 22 اوورز سپنرز نے پھینکے۔ ان 22 اوورز نے جنوبی افریقی اننگز کا مومینٹم توڑ دیا۔

اس کے برعکس جنوبی افریقی بولنگ نے 50 میں سے صرف 13 اوورز پھینکے۔ ان 13 اوورز میں پاکستان کا رن ریٹ پانچ سے اوپر نہ جا سکا۔ یہیں اگر ایک اور سپیشلسٹ سپنر موجود ہوتا تو ہاشم آملہ کا خیال درست ثابت ہو سکتا تھا اور وکٹ کے اعتبار سے یہ ایک چیلنجنگ ہدف ٹھہرتا۔

مگر امام الحق اور بابر اعظم نے بہترین گیم سینس کا مظاہرہ کیا اور کسی ایک لمحے بھی اپنے ڈریسنگ روم پر خوف طاری نہیں ہونے دیا۔ یہی نہیں، مطلوبہ رن ریٹ کے توازن میں ایک بہترین شراکت بھی بنا ڈالی۔

مگر جہاں پاکستان کا مقابلہ ہو رہا ہو، ایسا ممکن نہیں کہ ایک بار بھی اوسان خطا نہ ہوں اور ہاتھ دعا کے لیے نہ اٹھ جائیں۔ یہاں بھی اختتامی اوورز میں ایک لمحہ ایسا آ ہی گیا جہاں یکے بعد دیگرے پاکستان تین وکٹیں گنوا بیٹھا۔

لیکن محمد حفیظ پچھلے کچھ ماہ سے جس فارم میں ہیں اور جو تجربہ ان کی شخصیت کا حصہ بن چکا ہے، ایک لمحے کو بھی ان کی توجہ اپنے ہدف سے نہیں بٹی۔ آخری اوورز میں جس باریک بینی سے انھوں نے اپنے سٹروکس کا انتخاب کیا اور جس اعتماد سے گیندوں کو باونڈری پار بھیجا اس لحاظ سے یہ اننگز ان کی چند بہترین کاوشوں میں سے ایک دکھائی دیتی ہے۔

آملہ کا خیال غلط نہیں تھا مگر ڈوپلیسی ٹیم غلط کھلا بیٹھے۔ اس کے برعکس سرفراز نے ٹیم سلیکشن بھی بہتر کی اور حفیظ نے بھی دباؤ میں سٹروک سیلیکشن کی کمال مہارت دکھائی۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎