اسپاٹ فکسنگ کیس کا فیصلہ ہو گیا

پاکستان کے سابق کرکٹر ناصر جمشید پر برطانیہ میں رشوت کے الزامات میں فرد جرم عائد کی گئی ہے۔


رشوت ستانی کے یہ الزامات برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی کی جانب سے پاکستان اور بنگلہ دیش کرکٹ بورڈز کی جانب سے منعقد کردہ کرکٹ ٹورنامنٹس میں سپاٹ فکسنگ کی تحقیقات میں سامنے آئے ہیں۔

ناصر جمشید کے علاوہ دو برطانوی شہریوں یوسف انور اور محمد احجاز کے نام بھی اس فرد جرم میں شامل ہیں۔ بدھ کو کراؤن پروسیکیوشن سروس نے ان تینوں افراد کو تحریری نوٹس جاری کر دیے ہیں جن میں ان افراد کو رشوت ستانی کے دو دو الزامات کا سامنا ہے۔

یہ افراد 15 جنوری 2019 کو مانچسٹر میں مجسٹریٹ کورٹ میں پیش ہوں گے۔

نینشل کرائم ایجنسی کو اس تحقیقات میں پاکستان اور بنگلہ دیش کے کرکٹ بورڈ کا مکمل تعاون حاصل تھا۔

اس سے پہلے پاکستان کرکٹ بورڈ کے اینٹی کرپشن ٹریبونل کی اپنی تحقیقات کے نتیجے میں رواں سال اگست میں ناصر جمشید پر سپاٹ فکسنگ میں ملوث ہونے پر دس سال کی پابندی عائد کی گئی تھی اور فیصلہ کیا گیا تھا کہ وہ پابندی کے بعد بھی کرکٹ کی کسی بھی انتظامی نوعیت کی سرگرمی میں حصہ نہیں لے سکیں گے۔

ناصر جمشید انگلینڈ میں مقیم ہیں اور انھوں نے کسی بھی مرحلے پر پاکستان آکر ٹریبونل کے سامنے پیش ہونے سے انکار کردیا تھا تاہم وہ سکائپ کے ذریعے ٹریبونل کے سامنے پیش ہوئے تھے۔

یاد رہے کہ ناصر جمشید کا نام گذشتہ سال پاکستان سپر لیگ کے موقع پر سپاٹ فکسنگ سکینڈل میں سامنے آیا تھا۔ اس سکینڈل میں ملوث کرکٹرز شرجیل خان اور خالد لطیف پر پانچ پانچ سال کی پابندیاں عائد ہیں۔

خالد لطیف کی پانچ سالہ پابندی کے خلاف اپیل رد کر دی گئی تھی تاہم ان پرعائد کردہ دس لاکھ روپے جرمانہ ختم کردیا گیا تھا۔

2010 میں پاکستانی کرکٹ ٹیم کے دورۂ انگلینڈ کے دوران سپاٹ فکسنگ سکینڈل سامنے آیا جس میں تین کرکٹرز سلمان بٹ، محمد آصف اور محمد عامر ملوث تھے۔

اس سکینڈل میں یہ بات سامنے آئی کہ پاکستانی فاسٹ بالرز محمد عامر اور محمد آصف مبینہ طور پر بک میکر سے طے کیے گئے معاملات کے مطابق نو بال کریں گے۔

آئی سی سی نے اس معاملے کی تحقیقات کے لیے ٹریبونل قائم کیا جس نے سلمان بٹ پر دس سال کی پابندی عائد کی جن میں پانچ سال معطل سزا کے تھے۔ محمد آصف پر سات سال کی پابندی عائد کی گئی جن میں دو سال معطل سزا کے تھے جبکہ محمد عامر پر پانچ سالہ پابندی عائد کی گئی۔

یہ تینوں کرکٹرز لندن کی عدالت کی جانب سے سزاؤں سے بھی نہ بچ سکے۔

محمد عامر کو چھ ماہ قید کی سزا سنائی گئی۔ محمد آصف کو ایک سال قید کا سامنا کرنا پڑا جبکہ کپتان سلمان بٹ کو ڈھائی سال قید کی سزا سنائی گئی۔ محمد عامر سزا مکمل ہونے کے بعد پاکستان ٹیم میں واپس لوٹ آئے ہیں۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے میچ فکسنگ کی تحقیقات کے لیے حکومت پاکستان سے ایک کمیشن قائم کرنے کی درخواست کی تھی جس نے اگست 1998 میں لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس ملک محمد قیوم پر مشتمل کمیشن قائم کیا۔ اس کمیشن نے پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان سلیم ملک پر میچ فکسنگ کے الزام میں تاحیات پابندی عائد کی تھی۔ ان پر 10 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا تھا۔

فاسٹ بولرعطاء الرحمن پر بھی تاحیات پابندی عائد کی گئی تھی۔ ساتھ ہی ایک لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا تھا۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎