مسلم لیگ ن نے حکومت سے جے آئی ٹی بنانے کا مطالبہ کر دیا مگر کیوں؟

اسلام آباد: پاکستان مسلم لیگ (ن) نے ملک میں جاری توانائی بحران پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ملک میں سستے بجلی گھروں کی بندش کی تحقیقات کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بنانے کا مطالبہ کردیا۔


لیگی رہنماؤں کی جانب سے کہا گیا کہ ملک میں حکومتی پالیسی کی وجہ سے شرح نمو 5 ماہ کے دوران ہی حدف سے نیچے گرگئی۔

شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ ملک شدید بحران سے دوچار ہے، گزشتہ 5 ماہ کے دوران ہی ترقی کی شرح 4.0 سے نیچے گر گئی ہے، جبکہ مہنگائی میں بھی بتدریج اضافہ ہورہا ہے۔

سابق وزیرِ اعظم نے دعویٰ کیا کہ ان کی حکومت کے بعد تحریک انصاف نے حکومت سنبھالی تو اس وقت ملک میں گیس اور بجلی کی کمی نہیں تھی لیکن موجودہ حکومت کے 5 ماہ کے بعد بجلی اور گیس کی قلت ہے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ اس وقت حکومت فرنس آئل کی مدد سے 4 ہزار 2 سو میگا واٹ بجلی پیدا کر رہی ہے جو جو دنیا میں بجلی پیدا کرنے کا سب سے مہنگا ذریعہ ہے۔

شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ دنیا میں سب سے سستا پاور پلانٹ بند کیا جاچکا ہے اور سب سے مہنگے ذرائع سے بجلی پیدا کی جارہی ہے جس سے قومی خزانے کو یومیہ ایک ارب روپے کا نقصان ہورہا ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ سستے پاور پلانٹ کی بندش کی انکوائری کے لیے جے آئی ٹی تشکیل دی جائے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ملک میں ویسے ہی جے آئی ٹی بنانے کا کلچر متعارف کروایا جاچکا ہے، تاہم ہم بھی یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ ملک میں توانائی بحران سے بچنے کے ذمہ داروں کا تعین کرنے کے لیے جے آئی ٹی بنائی جائے۔

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے 2013 میں جب حکومت سنبھالی تو ملک میں بجلی و گیس کا شدید بحران تھا، تاہم نواز شریف کی لیڈرشپ میں لیگی حکومت نے اپنے دور میں ملک کو بحران سے باہر نکالا۔

اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیرِخزانہ مفتاح اسمٰعیل نے الزام عائد کیا کہ حکومت اب تک اسٹیٹ بینک سے ایک ہزار 4 سو ارب روپے قرضہ لے چکی ہے، جبکہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے اپنے اقتدار کے پورے 5 سالوں میں صرف 2 سو 88 ارب روپے قرضہ لیا تھا۔

مفتاح اسمٰعیل نے اپنی بات کی وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ اسٹیٹ بینک سے قرضے لینے کا مطلب ہے کہ نئے نوٹ چھاپے جائیں جس کا براہ راست اثر افراط زر بڑھنے کی صورت میں نظر آتاہے۔

انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت نے اپنے 5 سالوں میں ایک کروڑ نوکریاں دینے کا وعدہ کیا ہے جس کے لیے ملک کی ترقی کی شرح 9 سے 10 فیصد تک ہونا ضروری ہے۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎