پی ٹی آئی حکومت نے وہ کام کر لیا جو گزشتہ حکومت بھی نہ کر سکی

اسلام آباد: گزشتہ 58 برسوں میں ماسٹر پلان پر نظرِ ثانی نہ ہونے کے سبب شہر کو منصوبہ بندی کےحوالے سے متعدد مسائل کا سامنا ہے ، ان کا کہنا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت شہریوں کی زندگیوں میں بہتری لانے اور اسلام آباد کا انفرا اسٹرکچر بہتر بنانے کی خواہشمند ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ برس اسلام آباد ہائی کورٹ نے فیصلہ سنایا تھا کہ اس عہدے پر کسی سرکاری افسر کو تعینات نہیں کیا جاسکتا ، لیکن بجائے اس حکم پر عملدرآمد کرنے کے گزشتہ حکومت نے صدارتی آرڈیننس کا سہارا لیا جس کی مدت میں پارلیمنٹ کے ذریعے اضافہ بھی کیا گیا۔

تاہم اب کابینہ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد کرنے کا فیصلہ کرلیا ، اس بارے میں وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے امورِ سی ڈی اے علی عوام کا کہنا تھا کہ چیئرمین سی ڈی اے کے عہدے کے لیے اشتہار دینے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔

وفاقی کابینہ نے وزارت داخلہ اور کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کو وفاقی دارالحکومت کا ماسٹر پلان تبدیل کرنے کی منظوری دے دی۔


ذرائع کے مطابق کابینہ نے اس بات کا بھی فیصلہ کیا ہے کہ ایک اعلیٰ قابلیت کے حامل شخص کو چیئرمین سی ڈی اے کے عہدے پر تعینات کیا جائے گا جو سرکاری افسر نہ ہوں اور اس سلسلے میں محکمہ داخلہ کو نئے چیئرمین کی تعیناتی کا عمل شروع کرنے کی ہدایت بھی دی۔

واضح رہے کہ سی ڈی اے کو انتہائی سنگین انتظامی مسائل کا سامنا تھا جس میں قائم مقام چیئرمین اور بورڈ اراکین پر سوال اٹھائے جارہے تھے جو سب کے سب سرکاری ملازمین تھے۔

چناچہ کچھ ماہ قبل مذکورہ آرڈیننس کی قانونی حیثیت ختم ہوجانے کے بعد سی ڈی اے کے موجودہ چیئرمین افضل لطیف اور بورڈ کے دیگر اراکین کی تعیناتی پر سوالات پیدا ہورہے تھے۔

کابینہ اجلاس کے بعد وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ کابینہ نے ماسٹر پلان پر نظرِ ثانی کرنے کی منظوری دی ہے جسے پر ہر 20 سال بعد نظرِ ثانی کی جانی چاہیے تھی لیکن گزشتہ حکومتوں نے نہیں کی۔

انہوں نے بتایا کہ کابینہ نے سی ڈی اے کو ہدایت کی ہے کہ ماسٹر پلان میں نظرِ ثانی کرتے ہوئے لوگوں کو بے گھر نہ کیا جائے۔

خیال رہے کہ سی ڈی اے کے موجودہ قوانین کے مطابق رہائشی علاقوں میں اسکول نہیں چلائے جاسکتے جبکہ 400 نجی اسکول چل رہے ہیں۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎