عوام پر نیا بوجھ ڈالنے کی تیاری

پاکستان عوام پر نیا بوجھ ڈالنے کی تیاری، نئے سال میں پیٹرولیم مصنوعات سمیت کئی اشیاء کی قیمتوں کو پر لگ سکتے ہیں، حکومت نے آئی ایم ایف کے ساتھ حتمی شرائط طے کرنے سے پہلے منی بجٹ لانے کا فیصلہ کرلیا، ساتھ ہی یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ بوجھ غریبوں پر نہیں ڈالا جائے گا۔


عالمی مالیاتی ادارے سے بڑا قرض لینے کیلئے کئی کڑٰی شرائط ماننا ضروری ہیں، حکومت نے جنوری میں منی بجٹ لانے کا فیصلہ کرلیا، پیٹرولیم مصنوعات اور کھانے پینے کی اشیاء پر اضافی ٹیکس لگائے جانے کا خدشہ ہے۔

حکومت نے ٹیکس نادہندگان کیخلاف شکنجہ مزید سخت کرنے کی بھی ٹھان لی۔

وزیراعظم ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا کہ منی بجٹ آمدن بڑھانے کیلئے نہیں لارہے، آئی ایم ایف کی شرائط سے زیادہ اصلاحات کی رفتار اور سمت اہم ہے، وزارت خزانہ نے اب تک جو بھی فیصلے کیے، ان کا آئی ایم ایف کی شرائط سے کوئی تعلق نہیں۔

ایف بی آر حکام کے مطابق منی بجٹ میں نان فائلرز پر اضافی ٹیکس عائد کیا جائے گا، نئے ٹیکسز کے اطلاق سے قومی خزانے میں 150 ارب روپے سے زائد کی اضافی آمدن کا امکان ہے۔۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎