ایران کا ’تہران مخالف سمٹ‘ منعقد کرنے کے منصوبے پر پولینڈ سے احتجاج

دبئی: ایران کے وزیر خارجہ نے پولینڈ کی جانب سے امریکا کے ساتھ مل کر مشترکہ طور پر ایک عالمی اجلاس کی میزبانی کرنے کے منصوبے پر ایک سینئر پولش سفارتکار کو طلب کرکے احتجاج کیا۔


خیال رہے کہ گزشتہ دنوں امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ مائیک پومپیو نے کہا تھا کہ یہ سمٹ 13 سے 14 فروری تک وارسا میں منعقد ہوگی، جس میں مشرق وسطیٰ کا استحکام اور سیکیورٹی پر توجہ کے علاوہ اس بات کو یقینی بنانا اہم عنصر ہے کہ ’ایران کا غیر مستحکم کرنے میں اثر و رسوخ نہیں ہے‘۔

ارنا کے مطابق ایرانی وزارت خارجہ کے حکام نے تہران میں پولینڈ کے ناظم الامور کو کہا کہ ایران اجلاس منعقد کرنے کے اس فیصلے کو ’اپنے خلاف دشمنانہ کارروائی‘ کے طور پر دیکھتا ہے، ساتھ ہی انہوں نے خبردار کیا کہ تہران اس کا جواب دے سکتا ہے۔

اس موقع پر پولینڈ کے ناظم الامور نے کانفرنس سے متعلق تفصیل فراہم کی اور کہا کہ یہ ایران کے خلاف نہیں ہے۔

تاہم اس معاملے پر پولش وزارت خارجہ کی جانب سے کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ 2015 کے جوہری معاہدے کو ختم کرنے اور ایران کے تیل کے شعبے پر دوبارہ پابندی عائد کرنے کے بعد سے تہران اور واشنگٹن کے درمیان تعلقات انتہائی کشیدہ ہیں۔

دوسری جانب قطر میں گفتگو کرتے ہوئے مائیک پومپیو کا کہنا تھا کہ اس سمٹ کے مقصد میں ایران کے ’رویے‘ میں تبدیلی بھی شامل ہے، کیونکہ واشنگٹن کا الزام ہے کہ ایران خطے کو غیرمستحکم اور دہشت گردوں کی حمایت کرتا ہے، تاہم ایران ان الزامات کو مسترد کرتا ہے اور کہتا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں امریکی فوج کی موجودگی پریشانی اور عدم استحکام کا باعث ہے۔

پومپیو کا کہنا تھا کہ ’ہم مختلف موضوعات پر بات چیت کے لیے اکھٹا ہوں گے، جس میں داعش کے خلاف لڑنا اور اسلامیہ جمہوریہ ایران کو یہ باور کرانا کہ وہ ایک عام ملک کی طرح برتاؤ کرے جیسے معاملات بھی اجلاس کا حصہ ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ ’یہ کانفرنس امریکا، یورپ اور مشرق وسطیٰ تک محدود نہیں ہے بلکہ اس میں ایشیا، افریقہ اور پوری دنیا کے ممالک شامل ہوں گے‘۔

قبل ازیں ایران کے وزیر خارجہ محمد جاوید ظریف نے اس کانفرنس کے منعقد کرنے پر پولینڈ کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا اور ٹوئڑ پر لکھا تھا کہ ’ پولش حکومت شرمندگی کو دھونہیں سکتے تھے جب ایران نے عالمی جنگ عظیم دوئم میں پولینڈ کو بچایا اور اب وہ ایران مخالف سرکس کی میزبانی کر رہا ہے‘۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎