کوئٹہ کا رہائشی کینسر کے مریضوں کے لیے مسیحا بن گیا

پینتیس سالہ نوجوان کی والدہ کا دو ماہ پہلے کینسر کی وجہ سے انتقال ہوا،جس کے بعد اس نے موذی مرض میں مبتلا افراد کی مدد کرنے کی ٹھان لی۔


کوئٹہ کا شہری کینسر کے مریضوں کے لیے مسیحا بن گیا، اپنی تنخواہ سے مریضوں کے لیے ادویات اور دیگر سہولیات فراہم کرنے لگا،خرم سلیم نامی شہری نے شہر میں کینسر اسپتال کی تعمیر کے لیے بھی مہم شروع کردی۔

اپنی مدد آپ کے تحت سرکاری اسپتال کے کینسر وارڈ میں ادویات اور دیگر طبی سہولیات کا بندوبست کرنے لگا۔

خرم سیلم کا کہنا ہے کہ میں نے سوچا کوئٹہ میں بہترین کینسر اسپتال ہوناچاہیے،اس کے لیے کام شروع کردیا ہے،دوست واحباب بھی اس سلسلے میں ساتھ دے رہے ہیں۔

کوئٹہ کے بی ایم سی کینسر وارڈ کے انچارج ڈاکٹر زاہد کہتے ہیں کہ خرم جیسے لوگ اس معاشرے میں امید کی کرن ہیں۔ وارڈ میں مریضوں کے لیے پرائیوسی نہیں تھی،انہوں نے ہر وارڈ میں پارٹیشن اور پردے لگا دئیے ہیں۔

دوسری جانب مریضوں کے لواحقین بھی سرکاری اسپتال میں بہتر طبی سہولیات ملنے پر خوش ہیں کہتے ہیں کہ کینسر کی ادویات بہت مہنگی ہیں،اسکا خرچا کوئی بھی برداشت نہیں کرسکتا ہے ، یہاں پر بہت اچھا علاج کیا جارہا ہے۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎