تنقید کرنے والے بھارتی تعصب پرستوں کو ثانیہ مرزا کا منہ توڑ جواب

بھارت کی جانب سے پاکستان کیخلاف ہرزہ سرائی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں، کسی بھی معاملے پر عام شہریوں سے لے کر حکومتی سطح تک پاکستان کے خلاف تعصب اور انتہا پرستی کا مظاہرہ کیا جاتا ہے اور جو ایسا نہیں کرتا اسے کڑی تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔


پلواما حملے کے خلاف پاکستانی کرکٹر شعیب ملک کی اہلیہ بھارتی ٹینس اسٹارثانیہ مرزا نے گزشتہ روز سوشل میڈیا پر دانمشندانہ طریقے سے واقعے پر اظہار افسوس کرتے ہوئے امن کیلئے دعا کی تھی جس پر حسب معمول انہیں شعیب ملک سے تعلق کی بنا پر کڑی تنقید کا نشانہ بنایا جانے لگا۔

ثانیہ مرزا نے تنقید کرنے والوں کو منہ توڑ جواب دے ڈالا۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پرثانیہ مرزا نے لکھا کہ یہ پوسٹ ان کے لیے ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ بطور سیلیبرٹی ہمیں کسی بھی حملے کی مذمت سوشل میڈیا پر کرنی چاہیئے تا کہ ہم یہ ثابت کر سکیں کہ ہم محب وطن ہیں اور اپنے ملک کیلئے فکرمند ہوتے ہیں۔ کیوں ؟ کیونکہ ہم سیلیبریٹیز ہیں اور آپ میں سے کچھ بیزار ذہن ہیں جنہیں نفرت اور اپنا غصہ نکالنے کیلئے ہر وہ موقع چاہیے ہوتا ہے جس سے نفرت پھیلے؟۔

ثانیہ نے واضح کیا کہ مجھے کسی بھی حملے کی مذمت سب کے سامنے کرنے کی ضرورت نہیں ، نہ ہی سوشل میڈیا پر یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ ہم دہشتگردی کے خلاف ہیں، ظاہر ہے کہ ہم سب دہشتگردی کیخلاف ہیں۔

ٹینس اسٹار نے مزید لکھا کہ میں اپنے ملک کیلئے کھیلتی ہوں ، اپنا پسینہ بہاتی ہوں اور اس طریقے سے اپنے ملک کی خدمت کرتی ہوں۔ میں سینٹرل ریزرو پولیس فورس کے جوانوں اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ کھڑی ہوں۔ وہ صحیح معنوں میں ہیرو ہیں جو ہمارے ملک کی حفاظت کرتے ہیں۔ 14 فروری ہمارے ملک کی تاریخ کا سیاہ دن تھا اور امید ہے کہ ہمیں دوبارہ ایسا دن نہیں دیکھنا پڑے گا۔

بھارتی ٹینس کوئین نے واضح کیا کہ یہ دن بھلایا نہیں جاسکتا لیکن ہاں ، میں ابھی بھی امن کیلئے دعا گو ہوں اور آپ کو بھی نفرتیں پھیلانے کے بجائے دعا کرنی چاہیے۔ غصہ تب تک ٹھیک ہے جب اس کا کوئی تعمیری مقصد ہو لیکن دوسروں پر تنقید سے آپ کو کچھ حاصل نہیں ہورہا۔ دہشتگردی کیلئے اس دنیا میں کوئی جگہ نہیں تھی ، نہ ہی ہوگی۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎

مقبول ٹیگ‎‎‎