حکومت گرانے کی باتیں محض ایک بیان یا دعوا، شاہد خاقان عباسی نے اندورنی کہانی بتا دی

ایک سوال کے جواب میں شاہد خاقان عباسی نے واضح کیا کہ ’پیپلز پارٹی کی جانب سے چند گھنٹوں میں حکومت گرانے کی باتیں محض ان کے بیان ہو سکتے ہیں تاہم پاکستان مسلم لیگ (ن) سے اس سلسلے میں کوئی رابطہ نہیں ہوا‘۔


ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے کبھی بھی حکومت گرانے کی باتیں نہیں کی لیکن آئین حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کی جانے کی شق موجود ہے‘۔

سابق وفاقی وزیر نے کہا کہ ’ابھی ایسے حالات پیدا نہیں ہوئے کہ حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کی جا سکے‘۔

سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ ’قومی احتساب بیورو (نیب) وزارت پیٹرولیم سے متعلق کسی بھی تحقیقات کے لیے طلب کرے گی تو ضرور پیش ہوں گا تاہم ابھی ایسے حالات پیدا نہیں ہوئے کہ حکومت کے خلاف عدم اعتماد تحریک پیش کی جائے‘۔

واضح رہے کہ نیب نے شاہد خاقان عباسی کے خلاف تحقیقات کی منظور دی ہے جب وہ وفاقی وزیر پیٹرولیم تھے۔

نیب نے شاہد خاقان عباسی سمیت وزارت پیٹرولیم کے متعدد عہدیداران کے خلاف تحقیقات کا فیصلہ کیا ہے۔

اس حوالے سے انہوں نے مزید کہا کہ ’جب انہوں نے وزرات عظمیٰ کا منصب سنبھالا تب بھی ان کے پاس وزرات پیٹرولیم کا قلمدان تھا‘۔

نجی چینل ’جیونیوز‘ کے پروگرام ’کیپٹل ٹاک‘ میں انٹرویو دیتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ’نیب کی جانب سے کوئی تاحال کوئی الزام نہیں لگایا گیا تاہم وہ ہر قسم کے احتساب کے لیے موجود ہیں‘۔

نیب کے ریمانڈ سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ ’سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے خلاف 64 دن کا ریمانڈ دیا گیا تاہم اس دوران ان سے کوئی تفتیش یا سوال نہیں پوچھا گیا اور محض ادھر ادھر کی باتیں کی گئیں‘۔

شاہد خاقان عباسی نے نیب قانون کو ’کالا اور اندھا قانون‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’مذکورہ قانون آمریت کے دور میں تشکیل ہوا اور گزشتہ 18 برس میں نیب کی کارکردگی عیاں ہے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’نیب نے کو تحلیل کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ احتساب بیورو نے حکومت کو مفلوج کردیا، کوئی بیوروکریٹس کام کرنے یا فیصلے لینے کا حق میں نہیں ہے‘۔

گزشتہ 10 برس میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی حکومتوں کی موجودگی میں نیب قوانین میں ترامیم نہ کرنے سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ ’کوئی ایک جماعت نیب قوانین میں تبدیلی نہیں کرسکتی، جب تک اتفاق رائے شامل نہیں ہوگا‘۔

سابق وفاقی وزیر نے دعویٰ کیا کہ ’نیب قانون مسلم لیگ (ن) کو توڑنے کے لیے بنایا گیا اور آج بھی ایسے ہماری جماعت کے خلاف استعمال کیا جارہا ہے‘.



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎