ریاست مدینہ کے دعویدار حکومت نے اسلامی نظریاتی کونسل کی پہلی ہی سفارش رد کردی

 

اسلام آباد: پاکستان کو اسلامی فلاحی ریاست بنانے کی دعویدار حکومت نے اسلامی نظریاتی کونسل کی پہلی ہی سفارش رد کردی۔ تمام مکاتب فکر کے جید علماء پرمشتمل اسلامی نظریاتی کونسل نے حج پر سبسڈی کو جائز قرار دیکر وفاقی حکومت سے حاجیوں کو سبسڈی دینے کی سفارش کی ،کابینہ نے یہ کہہ کر مسترد کیا کہ حج صاحب استطاعت افراد پر فرض ہے،حکومت کا یہ پیسہ عوام کی فلاح پر خرچ ہونا چاہیئے۔

 

 

ذرائع کے مطابق کونسل نے قرار دیا تھا کہ مذہبی تہوار پر زائرین کو سہولت فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے، حکومت سبسڈی دے سکتی ہے۔ کونسل ارکان کی یہ رائے تھی کہ حکومتی سبسڈی زکوہ یا خیرات نہیں ہے، زکوہ کی طرح حج کا کوئی خاص نصاب مقررنہیں ہے۔ذرائع کے مطابق وزیر مذہبی امور نے کابینہ اجلاس میں یہ تجویز رکھی کہ فی حاجی کھانے کا خرچہ 45 ہزار روپے ہے،حکومت کونسل کی سفارش پر کھانا سبسیڈائز کر دے لیکن کابینہ کے اکثریتی ارکان نے سبسڈی کی مخالفت کی۔

 

 

 

ایکسپریس نیوز کے مطابق سیاسی و مذہبی حلقوں کا ماننا ہے حکومت نے مسلمانوں کے سب سے بڑے تہوار اور فریضہ حج کے لیے ساڑھے چار ارب روپے کی سبسڈی کی سفارش کو مسترد کرکے ریاست مدینہ بنانے کے دعوے کی نفی کی ہے۔ اگر حکومت سکھ یاتریوں کی سہولت کے لیے کرتارپور بارڈر پر کوریڈور تعمیر کرسکتی ہے تو اللہ کے مہمانوں کی خدمت کو اسلامی ریاست کی اہم ذمہ داری ہے۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎