ٹیلی گراف نے میلانیا ٹرمپ سے متعلق غلط خبر چلانے پر ہرجانہ ادا کردیا

لندن: برطانوی روزنامہ ٹیلی گراف نے اپنے آرٹیکل میں امریکا کی خاتون اول میلانیا ٹرمپ سے متعلق غلط معلومات شائع کرنے پر نہ صرف معذرت کرلی بلکہ حرجانہ بھی ادا کردیا۔


غیر ملکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ روز برطانوی روزنامے نے غیر مشروط معذرت شائع کرتے ہوئے کہا کہ 19 جنوری کو روزنامے کے ہفتہ وار میگزین میں شائع ہونے والی رپورٹ پر میلانیا ٹرمپ اور ان کے اہل خانہ کو جو پریشانی کا سامنا کرنا پڑا اس پر معذرت چاہتے ہیں۔

ٹیلی گراف کا مزید کہنا تھا کہ 'ہم اپنی غلطی پر میلانیا ٹرمپ کو حرجانے کی رقم کے ساتھ ساتھ ان کے قانونی کارروائی پر آنے والے اخراجات ادا کرنے کے لیے راضی ہیں'۔

برطانوی روزنامے کا مزید کہنا تھاکہ انہوں نے اپنی رپورٹ میں غلطی سے میلانیا ٹرمپ کے والد کو تنقید کا نشانہ بنایا، ان کے فن تعمیر سے متعلق پروگرام سے ان کی واپسی سے متعلق غلط رپورٹ شائع کی جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات سے قبل ان کے ماڈل کے طور پر ناکام کیرئیر سے متعلق رپورٹ بھی غلط تھی۔

برطانوی روزنامے کا کہنا تھا کہ 'ہم یہ تسلیم کرتے ہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات سے قبل میلانیا ٹرمپ ایک کامیاب ماڈل تھیں اور انہوں نے اپنا کام اپنے خاوند کی مدد کے بغیر آگے بڑھایا'، اخبار نے یہ بھی تسلیم کیا کہ انہوں نے مذکورہ رپورٹ میں دونوں کی پہلی ملاقات کے حوالے سے غلط رپورٹ شائع کی۔

ٹیلی گراف کا کہنا تھا کہ 'یہ دعویٰ کہ میلانیا ٹرمپ الیکشن کی رات رو رہی تھیں، بھی غلط ہے'۔

برطانوی ادارے نے ڈونلڈ ٹرمپ کے والد، والدہ اور ہمشیرہ کے 2005 میں نیویارک میں، ان کی اپنی عمارت میں منتقلی کی خبر کو بھی واپس لے لیا۔

خیال رہے کہ ٹیلی گراف برطانیہ کا معروف روزنامہ ہے اور اس کا جھکاؤ کنزرویٹو پارٹی کی جانب ہے۔

یہ پہلی مرتبہ نہیں کہ میلانیا ٹرمپ نے برطانوی میڈیا کو کامیابی سے چیلنج کیا ہو، اس سے قبل 2017 میں ڈیلی میل کے خلاف بھی قانونی کارروائی میں میلانیا ٹرمپ کو کامیابی حاصل ہوئی تھی، ڈیلی میل نے نہ صرف اپنے اقدام پر معذرت کی تھی بلکہ حرجانہ بھی ادا کیا تھا۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎