علیم خان کے بعد نیب کے ہاتھوں اگلی گرفتاری کس رہنما کی ہو گی؟ رانا ثنا اللہ کا بڑا دعوا

لاہور: پاکستان مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما اور سابق صوبائی وزیر قانون رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ شہباز شریف کو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی چیئرمین شپ سے ہٹا یا گیا  تو پھر پارلیمنٹ نہیں چل سکے گی،نیب کے ہاتھوں اگلی گرفتاری چوہدری پرویز الٰہی سمیت پنجاب کے دیگر تین لوگوں کی ہو گی ،علیم خان کی گرفتاری کے بعد  پی ٹی آئی کے اندر مایوسی پھیل رہی ہے ،علیم خان کی گرفتاری عمران خان کا فیصلہ ہے ،وزرا اور سپیکر پنجاب اسمبلی کے بھی فون ٹیپ ہو رہے ہیں ،’’پنڈی کا شیطان‘‘ گرفتاری سے بچ جائے گا اور وہ اکیلا ہی عمران خان کے ساتھ کھڑا ہو گا ،پتا نہیں وہ کس کے ایجنڈے پر کام کر رہا ہے ؟شہباز شریف کو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی چیئرمین شپ سے ہٹا یا تو پھر پارلیمنٹ نہیں چل سکے گی ۔

نجی ٹی وی چینل ’’سما نیوز‘‘ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیر قانون رانا ثنا اللہ نے دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہعلیم خان سمیت  پنجاب سے تین لوگ اور ہیں جنہیں نیب نے گرفتار کرنا ہے ،ان تینوں افراد کا تعلق لاہور سے ہے ،ایک سول انٹیلی جنس ایجنسی جو براہ راست وزیر اعظم کو رپورٹ کرتی ہے، وہ ایجنسی   ان کے فون ٹیپ کر رہی تھی اور ان کی نگرانی ہو رہی تھی ، جب اپوزیشن کے 50 لوگ ہوں گے تو پھر حکومت کے پانچ لوگوں کو بھی گرفتار کرنا پڑے گا ۔پی ٹی آئی کے اندر ایک مایوسی کا ایلیمنٹ اب  احتجاج میں بدل رہا ہے ،تحریک انصاف کے25 سے 30 ایم پی اے ایسے ہیں جن سے میرے بھی رابطے ہوئے ہیں ،ان لوگوں سے وعدہ ہوا ہے کہ جب حمزہ شہباز ملک میں واپس آتے ہیں تو ان کے ساتھ بیٹھیں گے ، یہ 25 سے 30 لوگ    ایسے ہیں جنہوں  نے حکومت کو وارننگ دی ہے کہ 15 فروری تک علیم خان کو فارغ کیا جائے ،اگر ایسا ہوتا ہے تو پھر نیب فارغ ہو جائے گی اور اگر ایسا نہیں ہوتا تو پھر مارچ تک بھی پی ٹی آئی حکومت چل نہیں پائے گی ۔انہوں نے کہا کہ دوسری گرفتاری چوہدری پرویز الٰہی کی ہے ،جبکہ  اسی کے ساتھ پرویز خٹک اور عاطف خان کا بھی نام ہے ،صرف ایک آدمی جو ’’پنڈی کا شیطان‘‘ ہے وہ اس کے ساتھ رہ جائے گا ،پتا نہیں اس کے پاس کس کا ایجنڈا ہے ؟۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے 25 تیس ایم پی اے  ہیں جن سے رابطہ ہوا ہے ،ان میں سے کچھ وہ ہیں  جو آزاد منتخب ہوئے تھے جبکہ کچھ  تو باقاعدہ طور پر تحریک انصاف کے ٹکٹ پر منتخب ہوئے ہیں ،یہ سب بہت زیادہ پریشان ہیں۔رانا ثنا اللہ خان کا کہنا تھا کہ اب دیکھیں علیم خان کا لوگوں پر بڑا احسان ہے ،علیم خان نے لوگوں کو ٹکٹ دیئے اور  ساتھ میں انہیں پیسے بھی دیئے کہ جاؤ جا کر الیکشن لڑو ،اگر یہ دوسرا قدم اٹھاتے ہوئے چوہدری پرویز الٰہی کو گرفتار کرتے ہیں تو پھر میرا نہیں خیال کہ یہ پنجاب میں گورنمنٹ چلا سکیں ،اس سارے حالات کے بعد مجھے تو جمہوریت بھی خطرے میں نظر آ رہی ہے ،اگر پرویزالہیٰ گرفتار ہوئے تو مارچ تک پنجاب حکومت نہیں چلے گی۔انہوں نے کہا  کہ اس وقت اپوزیشن کی جو لیڈر شپ ہے جس میں میاں نواز شریف ،آصف زرداری اور خورشید شاہ شامل ہیں کا  یہ کہنا کہ ہم اس حکومت کو گرانا نہیں چاہتے اس کے پیچھے یہی بات ہے کہ اگر اب کوئی اس قسم کا معاملہ ہوتا ہے تو پھر وہ یہ دیکھ رہے ہیں کہ شائد پھر جمہوریت بھی نہ چل سکے ۔انہوں نے کہا کہ سول  انٹیلی ایجنسی براہ  راست وزیر اعظم کو جواب دیتی ہے ،اگر وہ ایجنسی علیم خان ، وزرا اور سپیکر  پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی کے فون ٹیپ کرتی ہے تو وہ پھر کس کے کہنے پر کر رہی ہے ؟اگر مجھے پتا ہے تو پھر علیم خان اور پرویز الٰہی کو بھی پتا ہو گا ؟یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ان کو پتا نہ ہو ؟۔

رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ یہ نہیں ہو سکتا ہے کہ نیب علیم خان کی گرفتاری کے بارے میں ملک کے  چیف ایگزیکٹو (وزیر اعظم )کو انفارم نہ کرے ،میں چیلنج کرتا ہوں کہ وزیر اعظم کہیں کہ  مجھے علیم خان کی گرفتاری کا پہلے سے علم نہیں تھا ؟اوہ بھائی یہ تمہارا محسن ہے ،تم اسے بتا دو کہ ہائی کورٹ سے ضمانت قبل اَز گرفتاری لے لو ،ہم نے بھی آخر دس سال اسی جگہ پر گذارے ہیں ،لوگ جانتے بوجھتے ہیں اور پتا لگتا رہتا ہے ،جہاں وہ ہمیں بتاتے ہیں کہ آپ کے فون ٹیپ ہو رہے ہیں وہاں وہ یہ بھی بتاتے ہیں کہ صرف آپ کے ہی نہیں دوسروں کے بھی ہو رہے ہیں ،یہ بات بڑی حیران کن ہے کہ ہمارے فون تو ٹیپ ہو رہے ہیں ہمیں تو پتا ہے لیکن ان کے کیوں ہو رہے ہیں ؟اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ عمران خان اپنے وزیروں پر اعتماد نہیں کرتا ۔انہوں نے کہا کہ چوہدری پرویز الٰہی بڑے سمجھدار آدمی ہیں ،ان کو پتا ہے کہ یہ ان کے ساتھ کیا کرنے چاہ رہے ہیں؟انہوں نے پیچھے  تھوڑی آنکھیں دکھائی تھی تو اس کے پیچھے یہی بات تھی ورنہ پہلی قربانی علیم خان کی بجائے چوہدری پرویز الٰہی کی ہوتی۔انہوں نے کہا کہ میاں شہباز شریف کو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی چیئرمین شپ سے ہٹا یا گیا  تو پھر پارلیمنٹ نہیں چل سکے گی ۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎