وزیراعظم عمران خان، نواز شریف اور شہباز شریف کیلیے کل کا دن بہت اہم کیوں ہے؟

سابق وزیراعظم نواز شریف کی سزا معطلی کی درخواست پہلے سنی جائے گی یا نیب کی جانب سے سزا کالعدم قرار دینے کی اپیل؟ وزیراعظم عمران خان کی نااہلی کے لیے دائر درخواست قابل سماعت ہے یا نہیں اور کیا شہباز شریف پبلک اکاونٹس کمیٹی کے چئیرمین رہ سکتے ہیں یا نہیں؟ تمام سوالات کے جوابات پیر 21 جنوری کو اسلام آباد ہائیکورٹ سے ملیں گے۔


پیر21 جنوری کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں اہم مقدمات سماعت کے لئے مقرر ہیں۔ العزیزیہ ریفرنس میں سابق وزیراعظم نوازشریف کی جانب سےسزا معطلی کے درخواست اور احتساب عدالت کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کی اپیل پر جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل ڈویژن بنچ دوپہر12 بجے سماعت کرے گا۔

یہی بنچ نیب کی جانب سے دائردو اپیلوں کی سماعت بھی کرے گا۔ نیب نے فلیگ شپ ریفرنس میں نواز شریف کی بریت کو چیلنج کر رکھا ہے جبکہ العزیزیہ ریفرنس میں سابق وزیراعظم کو احتساب عدالت کی جانب سے سنائی جانے والی سزا 7سال سے بڑھا کر 14سال کرنے کی اپیل بھی دائر کر رکھی ہے۔

دوسری جانب وزیراعظم عمران خان کونااہل قراردینے سے متعلق شہری حافظ احتشام کی درخواست کی سماعت چیف جسٹس ہائیکورٹ جسٹس اطہرمن اللہ اور جسٹس میاں گل پرمشتمل 2رکنی بینچ کرے گا۔ عدالت نے درخواست کے قابل سماعت ہونے پر دلائل طلب کر رکھے ہیں۔

درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ عمران خان کی ایک بیٹی ٹیریان وائٹ بھی ہے لیکن وزیراعظم نے اپنے کاغذات نامزدگی میں یہ بات چھپائی تھی اس لیے وہ صادق اور امین نہیں رہے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ میں سنا جانے والا تیسرا اہم معاملہ شہبازشریف کی بطور چئیرمین پبلک اکاونٹس کمیٹی تقرری کا ہے۔ عدالت نے ایڈوکیٹ ریاض حنیف راہی کی جانب سے دائر درخواست کے قابل سماعت ہونے پر فیصلہ محفوظ کر رکھا ہے جو کل سنایا جائے گا۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎