بینظیر بھٹو کی زندگی پر سرسری سی ایک نظر

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں واحد خاتون وزیراعظم رہنے والی بینظیر بھٹو کی گیارہویں برسی منائی جا رہی ہے۔


بے نظیر بھٹو پاکستان کی پہلی خاتون وزیر اعظم تھیں۔

ملک کی بڑی سیاسی جماعت پیپلز پارٹی کے بانی اورسابق وزیراعظم ذوالفقار بھٹو کی یہ ہونہارصاحبزادی دو بار وزارت عظمیٰ کے منصب پرفائز رہیں۔

اکیس جون 1953 کو پیدا ہونے والی بینظیر نے 27 دسمبر2007 کو اس دنیا فانی سے رخصت ہوگئیں۔

15 سال کی عمر میں او لیول کا امتحان پاس کیا۔ انھوں نے آکسفورڈ یونیورسٹی میں داخلہ لیا جہاں سے انہوں نے فلسفہ، معاشیات اور سیاسیات میں ایم اے کیا۔

ان کے بہن بھائی مرتضیٰ بھٹو، شاہنواز بھٹو اور صنم بھٹو 

اٹھائیس جون1972 کو تاریخی شملہ معاہدے کے دوران پاکستان کے 92 رکنی وفد میں 19 سال کی بینظیر بھی شامل تھیں۔

بینظیربھٹو نے 18 دسمبر 1987 کو سندھ کے وڈیرے خاندان سے تعلق رکھنے والے آصف علی زرداری کے ساتھ زندگی کے نئے سفر کا آغازکیا

سال 1988 میں پہلی بار وزارت عظمیٰ کا حلف اٹھاتے ہوئے (پہلا دور 1988 تا 1990)

سال 1993 میں بینظیر بھٹو دوسری بار وزیراعظم منتخب ہوئیں (دوسرا دور 1993 تا 1996)

ان کے تین بچے بلاول، بختاور اور آصفہ ہیں جن کو وہ سوگوار کر گیئں۔

وطنی اختیار کرتے ہوئے متحدہ عرب امارات میں دبئی میں قیام کیا

اٹھارہ اکتوبر 2007 کو جلاوطنی کے بعد دبئی سے واپسی آیئں۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎