عبدالعلیم خان وعدے کے پورے نکلے،اپنی گرفتاری سے متعلق جو کہا وہ کر دکھا یا

نیب لاہور سینئر وزیر پنجاب علیم خان کے خلاف بیرون ملک جائیداد، آمدن سے زائد اثاثوں اور آف شور کمپنی کے حوالے سے تفتیش کررہا ہے، وہ آخری مرتبہ 8 اگست کو نیب کے سامنے پیش ہوئے جس کے بعد انہیں ایک سوالنامہ دیا گیا اور 6 فروری کو طلب کیا گیا تھا۔


علیم خان نے وزارت سنبھالتے ہی کہا تھا کہ اگر ان کے خلاف ریفرنس آیا تو وہ مستعفی ہو جائیں گے اور آج انہوں نے اپنے الفاظ کا بھرم رکھتے ہوئے پاکستان کے سیاسی کلچر میں شاندار روایت کا بیج بویا ہے

 

اس سلسلے میں علیم خان چوتھی بار پیش کرنے کے لئے پونے گیارہ بجے کے قریب ٹھوکرنیاز بیگ پر موجود نیب کے دفتر پہنچے جہاں میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ آج جس حوالے سے طلب کیا گیا اس پر واپسی پر بات کروں گا۔

نیب کے دفتر سے عبدالعلیم خان کا اسٹاف اکیلے روانہ ہوا اور سینئر وزیر نیب کے دفتر سے باہر نہیں آئے۔نیب آفس میں پیشی کے موقع پر ان سے مختلف سوالات کیے گئے جبکہ 2گھنٹے سے زائد جاری رہنے والی تحقیقات میں وہ نیب حکام کو مطمئن کرنے میں ناکام رہے، جس کے بعد انہیں مزید تفتیش کے لیے حراست میں لے لیا گیا۔

گرفتاری کے فوری بعد علیم خان نے وزارت سے استعفیٰ دے دیا ۔علیم خان نے مستعفی ہو کر ایسی شاندار سیاسی روایت کا بیج بویا جس کا تصور پاکستانی سیاسی کلچر میں نہیں تھا ۔انہوں نے وزارت سنبھالنے کے کچھ ہی عرصہ بعد اس بات کا اظہار کر دیا تھا کہ اگر ان کے خلاف ریفرنس دائر ہوا تو وہ مستعفی ہو جائیں گے ،انہوں نےنے یہ بات اجمل جامی کے پروگرام میں کہی جنہوں نے اس بات کو 4 ستمبر کوہی ٹوئیٹ کیا ۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎