سانجھے کی ہنڈیا چوراہے میں، پی ٹی آئی اورمسلم لیگ ق کا اتحاد خطرے میں پڑ گیا

حکومتی اتحاد میں دراڑ اس وقت سامنے آئی تھی جب وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری مسلم لیگ ق میں فارورڈ بلاک بنانے کا بیان دیا تھا جس پر پارٹی کا سخت ردِ عمل سامنے آیا تھا۔


بعدازاں صوبے میں پی ایم ایل کیو کے واحد وزیر برائے معدنیات حافظ عمار یاسر نے ’اپنے کام میں بے جا مداخلت‘ کو جواز بنا کر استعفیٰ پارٹی قیادت کو بھجوادیا تھا۔

 پاکستان مسلم لیگ قائد (پی ایم ایل کیو) کے اراکینِ اسمبلی نے حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی مرکز اور پنجاب میں قائم اتحادی حکومت کے رویے کو ’منفی‘ قرار دے دیا اور اپنی جماعت کی قیادت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس اتحاد کے مستقبل کے بارے میں کوئی فیصلہ کریں۔

اجلاس کے بعد جاری کیے گئے اعلامیے میں پارٹی اراکین نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے ان کے حلقوں میں ’منفی رویوں‘ پر خدشات کا اظہار کیا اور چوہدری شجاعت کو حکومتی اتحاد کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا اختیار بھی دیا۔

ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے ایک ذریعہ کا کہنا تھا کہ اراکینِ اسمبلی نے اپنی قیادت کو اپنے حلقوں میں مسائل کےحل کی راہ میں آنے والی رکاوٹوں سے بھی آگاہ کیا۔

ذرائع کے مطابق اراکینِ اسبملی چاہتے تھے کہ ان کی قیادت اس سلسلے میں وزیراعظم عمران خان سے بات چیت کرے، کیوں کہ ان کے واحد وزیر کے پاس بھی مطلوبہ اختیارات نہیں۔

دوسری جانب اطلاعات یہ بھی ہیں کہ وزیراعظم عمران خان قطر سے واپسی پر گجرات کے چوہدریوں سے ملاقات کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

پی ایم ایل کیو کا موقف تھا کہ اراکین اسمبلی کو ان کے حلقوں میں درپیش مسائل حل کرنے کے لیے ہمیں پی ٹی آئی سے اختیارات کی ضمانت چاہیے۔

علاوہ ازیں وزیراعظم عمران خان کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں پی ایم ایل کیو کی قیادت کی جانب سے مرکز اور صوبے میں 2، 2 وزارتیں دینے کے وعدے پر عمل درآمد کرنے کا مطالبہ بھی کیا جائے گا۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎