لاہورہائی کورٹ کا ایک اورفیصلہ سپریم کورٹ میں غلط ثابت ہوگیا،انصاف کے حوالے سے نئے سوال کھڑے ہوگئے

23 جنوری کو چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے خدیجہ صدیقی کی درخواست منظور کرتے ہوئے ملزم شاہ حسین کو گرفتار کرکے عدالت سے جیل بھیجنے کا حکم دیا تھا۔


 

سپریم کورٹ آف پاکستان نے کہا ہے کہ لاہور ہائی کورٹ نے خدیجہ صدیقی، جن پر ان کے ساتھی طالب علم کی جانب سے 23 مرتبہ خنجر کا وار کیا گیا تھا، کے کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے شواہد کو درست نہيں پڑھا جس کی وجہ سے ریکارڈ کی جانچ پڑتال میں واضح غلطی سامنے آئی۔

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے خدیجہ صدیقی کیس کے تفصیلی فیصلے میں کہا کہ ’ہمیں امید ہے کہ ہائی کورٹ اس حوالے سے مستقبل میں بہتر کام کرے گا‘۔

خدیجہ صدیقی پر شاہ حسین نے 3 مئی 2016 کو لاہور کے علاقے شملہ ہل کے نزدیک خنجر سے وار کیا تھا۔

اپنے تفصیلی فیصلے میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے شواہد میں کئی پہلوؤں کو نظر انداز کرنے اور اس کی غلط تشریح کیے جانے کی نشاندہی کی۔

تفصیلی فیصلے میں کہا گیا کہ ’اس کیس میں شواہد کی جانچ پڑتال کے کام میں ہمارے مطابق نامکمل تھا جس کی غلط تشریح بھی کی گئی اور ریکارڈ کو پڑھا بھی نہیں گیا تھا جس کی وجہ سے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے میں سنگین غلطی سامنے آئی جس کی وجہ سے انصاف نہیں ہوسکا اور معاملے پر سپریم کورٹ کو شامل کرنا پڑا‘۔

فیصلے میں کہا گیا کہ ’بری کرنے کا فیصلہ سنگین نوعیت پر غلط تشریح، شواہد کو نہ پڑھنے کی وجہ سے سامنے آیا اور کیس کا حتمی نتیجہ خطرناک تھا تاہم فیصلے کو مداخلت کیے جانے سے استثنیٰ حاصل نہیں تھی‘۔

واضح رہے کہ چيف جسٹس آصف سعيد کھوسہ کی جانب سے خود کیس کا 16 صفحات پر مشتمل تفصیلی تحریر کیا گیا۔

فیصلے میں انہوں نے شاہ حسين کو بری کرنے کا ہائیکورٹ کا فيصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’ٹرائل اور اپیل کورٹ نے شواہد اور ریکارڈ کی گہرائی سے جانچ پڑتال کرنے کے بعد شاہ حسین کو مجرم ٹھہرایا تھا‘۔

فیصلے میں کہا گیا کہ ٹرائل اور اپیل سننے والے ذیلی عدالتوں کی جانب سے کسی غلطی یا قانون کی خلاف ورزی نہ ہونے پر ہائی کورٹ کو ان کے ریکارڈ میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے تھی۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎