فلپائن میں مسجد پر دستی بم حملہ، دو افراد ہلاک

فلپائن کے شہر زمبونگا میں ایک مسجد پر دستی بم حملے کے نتیجے میں دو افراد ہلاک اور چار زخمی ہو گئے ہیں۔


حکام کا کہنا ہے کہ نامعلوم افراد بدھ کی صبح مسجد میں دستی بم پھینک کر فرار ہو گئے جنہیں تلاش کیا جارہا ہے۔

واقعے کے بعد سکیورٹی فورسز نے علاقے کو فوراً گھیرے میں لے لیا اور امدادی کارکنوں نے زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا۔

زمبونگا کی علماء کونسل نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسجد پر بم حملہ غیر اخلاقی فعل ہے۔

کونسل اور حکومت نے شہریوں سے محتاط اور پرسکون رہنے کی اپیل کی ہے۔

زمبونگا فلپائن کے اس جنوبی صوبے میں واقع ہے جہاں تین روز قبل ہی ایک گرجا گھر میں ہونے والے بم دھماکوں میں 21 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

حملے کا نشانہ بننے والا گرجا گھر جولو نامی جزیرے پر واقع تھا جہاں مسلمانوں کی اکثریت ہے۔

تاہم ریجنل ٹاسک فورس کے کمانڈر کرنل لیونل نیکولس نے کہا ہے کہ مسجد پر دستی بم حملے کا تعلق اتوار کو چرچ میں ہونے والے دو بم دھماکوں سے نہیں ہے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ گرجا گھر بم دھماکوں کے بعد سے علاقے میں سکیورٹی ہائی الرٹ ہے۔

حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ گرجا گھر میں ہونے والے دو دھماکوں میں سے ایک خود کش حملے کا نتیجہ ہوسکتا ہے۔

حملے کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم داعش نے قبول کی تھی۔ لیکن فلپائن کی فوج کا ماننا ہے کہ حملے کی یہ کارروائی مسلم عسکریت پسند تنظیم 'ابو سیاف' کی ہوسکتی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ مارے جانے والے حملہ آور کے فارنزک ٹیسٹ کرائے جا رہے ہیں تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ حملہ آور غیر ملکی ہے یا نہیں۔

فلپائن کی آبادی کی اکثریت کا تعلق کیتھولک مسیحیت سے ہے لیکن وہاں مسلمانوں کی بھی قابلِ ذکر تعداد بستی ہے۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎