پھیلتی کمراورنکلتے پیٹ سے پریشان افراد کیلیۓ چربی کو گھلانے کے آسان طریقے

اپنے جسم میں نکلتی ہوئی توند کسی کو اچھی لگ سکتی ہے؟ خواتین اور مرد دونوں اپنی پھیلتی کمراورنکلتے پیٹ سے پریشان ہوتے ہیں۔


مگر اس سے نجات پانا بہت مشکل لگتا ہے۔

تاہم پیٹ میں جمع ہونے والی اضافی چربی کو گھلانے کے آسان طریقے موجود ہیں جس سے آپ کا جسم چند ہفتوں یا مہینوں میں ایک بار پھر متناسب ہوسکتا ہے۔

درحقیقت چند عام چیزوں سے آپ ایک دن میں ہی کسی حد تک اس چربی کو گھلا سکتے ہیں۔

چینی کا استعمال خصوصاً سفید چینی سے بنی اشیا کو کھانا توند کی چربی بڑھانے والا عنصر ہے، اس چینی میں موجود گلوکوز اور مٹھاس سادہ کاربوہائیڈریٹس پر مبنی ہوتی ہے جو دوران خون فوری جذب ہوجاتی ہے اور توانائی کے لیے خارج ہوجاتی ہے۔ مگر جب اس کا زیادہ استعمال کیا جائے تو یہ چربی کے ٹشوز کی شکل اختیار کرنے لگتی ہے جبکہ اس کا زیادہ استعمال بلڈ شوگر بڑھاتا ہے جس سے انسولین زیادہ مقدار میں خارج ہوتی ہے جو انسولین کی مزاحمت بڑھاتا ہے، میٹھی اشیا کا کم از کم استعمال توند کی چربی کو آج سے تیزی سے گھلانے کا چند بہترین طریقوں میں سے ایک ہے۔

پروٹین وہ غذائی جز ہے جو کہ توند کی چربی گھلانے میں بہت زیادہ مدد دیتا ہے، پروٹین کا زیادہ استعمال پیٹ کو زیادہ دیر تک بھرے رکھتا ہے جس کے نتیجے میں بھوک کا باعث بننے والے ہارمون کی سطح کم ہوتی ہے، جس سے دن بھر میں کیلوریز کی مقدار کم ہوتی ہے۔ انڈے، سرخ گوشت، مچھلی، پنیر، دہی اور چکن میں پروٹین کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے، ان میں سے کسی ایک کو اپنے ہر وقت کے کھانے کا حصہ بنائیں اور بہت جلد توند سے نجات پالیں۔

اپنی غذا میں فائبر کو شامل کریں خصوصاً جو کا دلیہ، تخم بالنگا (بالمعروف تخ ملنگا)، دالوں، سبزیوں اور پھلوں میں موجود فائبر جو کہ پیٹ کے ارگرد چربی کے ذخیرے کو کم کرتا ہے، فائبر جسم سے پانی کو بڑھا دیتا ہے جس سے پیٹ بھرا ہوا محسوس ہوتا ہے، جس سے مٹھاس اور دیگر کاربوہائیڈریٹس دوران خون میں سست روی سے جذب ہوتے ہیں۔

کئی کپ چائے پینا بھی توند کی چربی گھٹانے میں مدد دیتا ہے، سبز چائے بہترین انتخاب ہے مگر سیاہ چائے بھی فائدہ مند ہے، جس میں چینی شامل نہ کی جائے، وہ بھی موثر ہے۔ چائے میں موجود اجزا میٹابولزم کی رفتار بڑھاتے ہیں اور جگر میں جمع ہونے والی چربی تیزی سے گھلتی ہے، خصوصاً جب ورزش بھی کی جائے۔ پودینے کی چائے بھی فائدہ مند ہے جو کھانے کی خواہش کو کم کرتی ہے۔

آج کے طرز زندگی میں لوگوں کی نیند کا دورانیہ کم سے کم ہوتا جارہا ہے جس کی قیمت مختلف بیماریوں کی شکل میں چکانا پڑتی ہے، جس میں سب سے نمایاں پیٹ کا نکلنا ہے، ایک رات صرف 30 منٹ کی کم نیند بھی وزن میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے اور یہ وزن توند کی شکل میں سامنے آسکتا ہے۔

ورزش کرنا دشوار لگتا ہے؟ تو جان لیں کرسی پر سارا دن بیٹھے رہنا موٹاپے، ذیابیطس اور میٹابولک سینڈروم کا خطرہ بڑھاتا ہے مگر کسی بھی قسم کی جسمانی سرگرمی فائدہ مند ہے، چاہے معمولی ہی کیوں نہ لگے، جیسے کچھ دیر تیز چہل قدمی یا فون پر بات کرتے ہوئے چلنا یا لفٹ کی جگہ سیڑھیوں کا انتخاب کرنا، دن بھر اس طرح کی مصروفیات توند کی چربی گھلانے میں مدد دیتی ہیں۔

یوگا اور مرقبہ بھی چربی گھلانے میں مدد دیتے ہیں اور جسمانی سرگرمیاں اس وقت تک زیادہ موثر نہیں ہوتی جب ذہن تناؤ سے پاک نہ ہو، تناؤ جسم میں ایک ہارمون کورٹیسول کی مقدار کو بڑھا دیتا ہے اور یہ ہارمون پیٹ کے گرد چربی کو جمع کرنے لگتا ہے، روزمرہ میں زیادہ تناؤ موٹاپے سے ہٹ کر بھی صحت کے لیے اچھا نہیں اور مختلف امراض کا باعث بنتا ہے۔

دو سیکنڈ میں سپاٹ پیٹ چاہتے ہیں؟ تو بالکل سیدھا کھڑے ہوجائیں، جھک کر چلنے سے پیٹ باہر کی جانب نکلتا ہے مگر ریڑھ کی ہڈی کو سیدھا رکھنے سے آپ لمبے اور دبلے نظر آتے ہیں، یقیناً یہ ایک عارضی حل ہے مگر کھڑے ہونے کا صحیح انداز پرکشش شخصیت سے ہٹ کر بھی متعدد طبی فوائد کا حامل ہوتا ہے۔

ورزش کو معمول بنانا جسمانی وزن کو کم ہی نہیں کرتا بلکہ اسے دوبارہ بڑھنے سے بھی روکتا ہے، ویسے تو کسی مثالی ورک آﺅٹ پر اتفاق نہیں تو ایروبک اور ویٹ ورزشیں دونوں کا امتزاج فائدہ مند ثابت ہوسکتا ہے۔ 30 سال سے زائد عمر کے افراد کے لیے ویٹ ٹریننگ زیادہ فائدہ مند ہے جس سے ہڈیاں بھی مضبوط ہوتی ہیں، ورزش سے مسلز کا حجم بڑھتا ہے جو کہ میٹابولوک ریٹ تیز کرتا ہے جس سے بھی توند کی چربی تیزی سے گھلتی ہے۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎