اظہر علی اور اسد شفیق، مصباح اور یونس خان کا سکھایا ہوا سب بھول گئے

پاکستان یہ ٹیسٹ میچ جیت سکتا تھا۔ اول تو فاف ڈو پلیسی نے پہلی بیٹنگ کی دعوت پاکستان کو دے ڈالی۔ اس پہ طرہ یہ کہ ورنون فیلینڈر کو شامل کرنے کے لیے اپنے سپنر کیشو مہاراج کو بھی باہر بیٹھا دیا۔


ویسے تو جنوبی افریقہ کی سبھی وکٹیں پیس اور باؤنس سے بھرپور ہیں۔ مگر نیولینڈز کی وکٹ میں یہ خاصیت ہے کہ یہ تیسرے دن سے اچھا خاصا ٹرن لینا شروع کر دیتی ہے۔ کگیسو ربادا بھی کل یہی اشارہ کر رہے تھے کہ یہ وہ وکٹ ہے جہاں میچ پانچویں دن تک جا سکتا ہے۔

ایسی وکٹ پہ ذرا تصور کیجیے کہ اگر ایک کپتان خود ہی چوتھی اننگز کی بیٹنگ لے لے اور اس کے پاس کوئی سپنر بھی نہ ہو تو اس کی ایسی چال کے دو ہی مطلب ہو سکتے ہیں کہ یا تو اسے اپنی بولنگ لائن پہ بہت زیادہ اعتماد ہے یا پھر حریف کی بیٹنگ کے بارے کوئی غلط فہمی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

اگر یہاں پاکستان صرف ڈھائی سو رنز ہی جوڑ لیتا تو سکور بورڈ کا پریشر اپنی جگہ، سپنر کی عدم موجودی اور یاسر شاہ کے سامنے چوتھی اننگز کی بیٹنگ کا خوف ہی ڈو پلیسی کے سبھی منصوبوں کو لے ڈوبتا۔

مگر جو بلے باز دبئی کی وکٹ پر پہلی سلپ میں کیچ دے دیتے ہیں، وہ جنوبی افریقہ کی کنڈیشنز میں کیا معجزہ برپا کریں گے۔

شان مسعود اور سرفراز کے سوا سبھی بلے بازوں پہ اتنا خوف طاری رہا کہ قدم کریز میں منجمد ہی دکھائی دیے۔ کوئی فرنٹ فٹ پہ پھنس گیا تو کوئی بیک فٹ پہ ہی لڑکھڑاتا رہ گیا۔

اب تو پاکستانی بیٹنگ پہ ایسا اعتماد کا بحران حاوی ہے کہ وکٹ کوئی بھی ہو، بولنگ کیسی بھی ہو، یہ یقین سے کہا ہی نہیں جا سکتا کہ یہ بلے باز کوئی قابلِ قدر ٹوٹل ترتیب دے سکیں گے۔

مگر سوال یہ ہے کہ سات سال تک بھرپور اعتماد اور یقین کے ساتھ ڈٹی رہنے والی بیٹنگ کو آخر ایسا کیا ہو گیا کہ یکایک ہتھے سے ہی اکھڑ گئی۔ چلیے جنوبی افریقہ کی تو وکٹیں ہی اتنی مشکل ہیں کہ پچھلے ٹیسٹ کے بعد ایلگر بھی ازراہِ تفنن کہہ رہے تھے جتنا مشکل کام ان وکٹوں پہ اوپننگ کرنا ہے، ان کی تنخواہ تین گنا کی جائے۔ مگر اب تو عرب امارات کی وکٹوں پہ بھی ہمارے بلے باز پھنسے پھنسے دکھائی دیتے ہیں۔

اب تو خیر عمومی دلیل یہی ہے کہ مصباح اور یونس کے جانے سے کوئی ایسا خلا پیدا ہو گیا کہ نو آموز بیٹنگ اسے سنبھال ہی نہیں پائی۔ مگر یہ دلیل دیتے ہوئے اکثر لوگ بھول جاتے ہیں کہ ایسے بحران تو مصباح کے جانے سے سال پہلے ہی شروع ہو گئے تھے۔

اب حسنِ اتفاق یہ بھی ہے کہ یہ مسائل گھمبیر تب ہوئے جب مکی آرتھر نے یہ ڈریسنگ روم سنبھالا۔ اچانک فرسٹ کلاس کی بجائے پی ایس ایل ٹیسٹ ٹیم کی سلیکشن کا معیار بن گئی۔ درپردہ سابق کپتان اس پہ معترض بھی رہے کہ کمزور تکنیک والے بلے بازوں کو ٹیسٹ کھلانا درست نہیں ہے۔

مگر مکی آرتھر اور انضمام کے انقلاب کو اس سے کوئی سروکار نہیں تھا کہ ٹیسٹ ٹیم پہ کیا گزرتی ہے۔ ان کے خیال میں جو اپروچ ون ڈے اور ٹی ٹونٹی میں کامیابی کی سبیل بن گئی تھی، وہی ٹیسٹ میں بھی سرفرازی عطا کرے گی۔

مگر نتیجہ اس کا یہ نکلا کہ اظہر علی اور اسد شفیق بھی وہ سب کچھ بھلا بیٹھے جو مصباح اور یونس خان کی سات سالہ ریاضت نے سکھایا تھا۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎