ذیابیطس سے بچاؤ کے لیے بہترین غذائیں

ذیابیطس وہ مرض ہے جو دیمک کی طرح خاموشی سے انسانی جسم کے اندرونی اعضا کو چاٹ جاتا ہے اور اگر اس کے بارے میں بروقت معلوم نہ ہوسکے تو یہ بینائی سے محرومی سے لے کر گردوں کے فیل ہونے اور دیگر لاتعداد طبی مسائل کا سبب بنتا ہے۔


زندگی کس کو پیاری نہیں ہوتی مگر اچھی صحت کے بغیر جینا آسان نہیں ہوتا اور وہ جہنم جیسی لگنے لگتی ہے اور موجودہ عہد میں جو مرض انسانوں کے لیے سب سے زیادہ مہلک ثابت ہو رہا ہے وہ ذیابیطس ہے۔

موجودہ عہد میں طرز زندگی خاص طور پر غذائی عادات ایسی ہیں، جو اکثر افراد کو اس جان لیوا مرض کا شکار بنا دیتی ہیں، جس کی تشخیص اگر بروقت ہوجائے تو کچھ چیزیں ایسی ہوتی ہیں جو اسے پھیلنے سے روکتی ہیں اور اس بارے میں جاننا آپ کے لیے یقیناً دلچسپی سے خالی نہیں ہوگا۔

انڈے جسمانی پٹھوں کی نشوونما کے لیے بہترین غذا ہے کیونکہ ان میں پروٹین کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے، اگر انڈے کی سفیدی کا زیادہ استعمال کیا جائے تو یہ ذیابیطس ٹائپ ٹو کو روکنے کا بہترین آپشن ثابت ہوتی ہے کیونکہ اس میں بہت زیادہ پروٹین اور کاربوہائیڈریٹس کی تعداد کم ہوتی ہے۔

مختلف طبی رپورٹس میں یہ بات سامنے آچکی ہے کہ بہت زیادہ چربی والی غذائیں، ورزش سے دور اور پھلوں و سبزیوں کا بہت کم استعمال جسم میں بلڈ شوگر کو جذب کرنے کی صلاحیت کو ختم کردیتا ہے اور اس ایک آسان حل سبز چائے کا استعمال ہے، یہ مشروب فلیوونوئیڈ سے بھرپور ہوتا ہے جو جسم میں انسولین کی سرگرمی کو بڑھاتا ہے دن بھر میں اس کی ایک پیالی ذیابیطس کی روک تھام میں مفید ثابت ہوتی ہے۔

اب یہ دال ہو، لوبیا یا کوئی اور، بیجوں میں گلیسمک انڈیکس کی سطح بہت کم ہوتی ہے جس کا مطلب ہے کہ انہیں کھانے کے بعد جسم میں کاربوہائیڈریٹس کا اخراج بتدریج ہوتا ہے اور بلڈ شوگر لیول بڑھنے کا امکان بہت کم ہوتا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق ایک کپ بیجوں کو تین ماہ تک روزانہ کھانا ذیابیطس سے بچنے یا اس کے شکار افراد میں بلڈ شوگر لیول کنٹرول میں رکھنے میں مدد دیتا ہے۔

ہوسکتا ہے کہ بیشتر افراد کا خیال ہو کہ سیب جیسا میٹھا پھل ذیابیطس کے مریضوں کے لیے نقصان دہ ہو، مگر یہ درست نہیں، ایسے افراد ان پھلوں کو کھا سکتے ہیں جن میں گلیسمک انڈیکس کی سطح کم یا متوازن ہو اور پھل ان میں سے ایک ہے۔ روزانہ ایک سیب کھانے کے دیگر متعدد فوائد بھی ہیں کیونکہ یہ پھل فائبر، وٹامن سی اور دیگر اجزا سے بھرپور ہوتا ہے۔

یہ مزیدار میوہ میگنیشم سے بھرپور ہوتا ہے، یہ ایسا منرل ہے جو جسم کو انسولین کو زیادہ موثر طریقے سے استعمال کرنے میں مدد فراہم کرسکتا ہے، کچھ مقدار میں بادام روزانہ کھانا بلڈ شوگر لیول کو متوازن رکھنے میں مدد دے سکتا ہے، اس کے علاوہ بادام اپنے پروٹین، فائبر اور فیٹی ایسڈز کی بدولت ذیابیطس کے مریضوں کے لیے ایک اچھا آپشن ہے۔

پالک ان چند سبزیوں میں سے ایک ہے جو ذیابیطس میں مبتلا ہونے کا خطرہ ٹالنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔ جو لوگ روزانہ کچھ مقدار میں پالک کا استعمال کرتے ہیں ان میں ذیابیطس کا خطرہ اس سبزی سے دور بھاگنے والوں کے مقابلے میں 14 فیصد کم ہوتا ہے۔ اس سبزی میں وٹامن کے، میگنیشم، پوٹاشیم، زنک اور دیگر منرلز بھی موجود ہوتے ہیں جو عام صحت کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہوتے ہیں۔

تخ ملنگا ذیابیطس ٹائپ ٹو کی روک تھام میں بہتر سمجھا جاتا ہے کیونکہ یہ بلڈ شوگر لیول کو کنٹرول میں رکھتا ہے۔ یہ جسمانی میٹابولزم کی رفتار سست کرتا ہے اور کاربوہائیڈریٹس کو گلوکوز میں بدلنے کے عمل کو کنٹرول کرتا ہے۔ ناشتے میں دودھ کے ایک گلاس میں تخ ملنگا کو ملائیں اور پی لیں۔

بیریز کی نسل کا یہ نیلا پھل فائبر سے بھرپور ہوتا ہے جو آپ کے جسمانی نظام سے فالتو چربی کو باہر کرنے کے ساتھ ساتھ ہاضمے اور بلڈ شوگر کو بھی بہتر بناتا ہے۔ امریکا میں ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق روزانہ بلیو بیریز کے جوس کے 2 کپ کا استعمال خون میں گلوکوز کی سطح کم کرنے کے ساتھ ساتھ یاداشت کو عمل کو بھی بہتر بناتا ہے۔ بلیو بیری میں موجود قدرتی اجزاء چربی کے خلیات کو سکڑنے میں مدد دیتے ہیں اور ایک ایسے ہارمون کو خارج کرنے میں مدد دیتے ہیں جو خون میں گلوکوز لیول کو کنٹرول کرتا ہے اس طرح بلڈ شوگر کی سطح معمول پر رہتی ہے اور انسولین کی حساسیت بڑھتی ہے۔

ذیابیطس کے شکار افراد کے لیے دلیے کا استعمال بلڈ شوگر کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے بہترین ثابت ہوتا ہے، جو کے دلیے میں پائے جانے والے اجزاء ذیابیطس کے شکار افراد کے لیے فائدہ مند اثرات رکھتے ہیں، یہ دلیہ دل کی صحت کو بھی بہتر بناتا ہے اور روزمرہ کی خوراک میں موجود گلوکوز کے جسم میں جذب ہونے کی رفتار کو بھی سست کردیتا ہے، تاہم چینی ڈالنے سے گریز کرنا بہتر ہوتا ہے۔

برصغیر کے کھانوں میں عام استعمال کی جانے والی ہلدی نظام ہاضمہ کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے جس کے نتیجے میں خوراک میں شامل ایسے اجزاء جلد ہضم ہوجاتے ہیں جو بلڈ شوگر کی سطح کو ڈرامائی حد تک بڑھا سکتے ہیں۔ اس زرد مصالحے کو اکثر سالن وغیرہ میں استعمال کیا جاتا ہے جس کے بلڈ شوگر پر خوشگوار اثرات مرتب ہوتے ہیں جبکہ اس کا اہم جز کرکومین جسمانی میٹابولزم کی کارکردگی بڑھاتا ہے جس کے نتیجے میں چربی کے خلیات کی مقدار بڑھنے نہیں پاتی جبکہ لبلبے ، گردوں اور پٹھوں کے خلیات کی کارکردگی بھی بڑھ جاتی ہے۔

متعدد طبی رپورٹس میں یہ بات سامنے آچکی ہے کہ یہ مزیدار مصالحہ بلڈ شوگر کی سطح کم کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوتا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق ذیابیطس ٹائپ ٹو کے شکار افراد جو روزانہ دار چینی کی معمولی مقدار کا استعمال کرتے ہیں ان کے بلڈ شوگر کی سطح میں 30 فیصد کی نمایاں بہتری دیکھنے میں آتی ہے۔اس کے علاوہ یہ کولیسٹرول کی سطح کو بڑھنے سے بھی روکتا ہے جبکہ اس میں شامل ایک جز کرومیم انسولین کے اثرات کو بڑھاتا ہے اور دیگر قدرتی منرلز خون میں موجود مضر صحت اجزاء کو پاک کرتے ہیں جس سے کینسر کا خطرہ کم ہوتا ہے۔

دنیا بھر میں پسند کیے جانے والے اخروٹ مختلف قدرتی اجزاء اور وٹامنز سے بھرپور ہوتے ہیں جو کہ ذیابیطس اور امراض قلب وغیرہ سے تحفظ فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے شکار افراد میں بیماری کی شدت کو کم کرنے میں بھی کردار ادا کرتے ہیں۔ اخروٹ کھانے کے نتیجے میں آپ کے جسم کو زیادہ طاقت کم کیلیوریز کے استعمال سے مل جاتی ہے جبکہ پیٹ بھرنے کا احساس بھی زیادہ دورانیے تک برقرار رہتا ہے۔

مختلف تحقیقی رپورٹس میں یہ بات سامنے آچکی ہے کہ مچھلی کا استعمال انسولین کی حساسیت کو بہتر بنانے میں مددگار ہوتا ہے کیونکہ اس میں اومیگا تھری فیٹی ایسڈز موجود ہوتے ہیں، جس سے جسم میں گلوکوز کی مقدار میں کمی سے ذیابیطس کا شکار ہونے کا خطرہ کم ہوجاتا ہے۔اسی طرح اومیگا تھری فیٹی ایسڈز کے نتیجے میں جسم کم پھولتا ہے یا سوجن کا عارضہ لاحق نہیں ہوتا جو کہ ذیابیطس و وزن کے مسائل کو مزید بدتر بنانے کا باعث بنتا ہے۔

ایک ہسپانوی طبی تحقیق کے مطابق اگر تو آپ کی غذا زیتون کے تیل میں تیار ہوتی ہے تو ذیابیطس ٹائپ ٹو کا خطرہ بھی 50 فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ عام گھی، کنولا آئل، مکھ وغیرہ کے مقابلے میں زیتون کے تیل میں تیار کیے گئے پکوان پیٹ بھرنے کے احساس کو زیادہ دیر تک برقرار رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ اس تیل میں شامل صحت بخش چکنائی اسے خلیات کو نقصان سے تحفظ دینے مٰں مدد فراہم کرتی ہے اور دل کے امراض کا خطرہ کم ہوتا ہے۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎