سال2018 کے چھے بہترین پاکستانی بولرز

پاکستان کرکٹ ٹیم نے چند روز بعد مکمل ہونے والے سال 2018 میں بہت سی قابل قدر کامیابیاں سمیٹیں۔ ان کامیابیوں میں جہاں بیٹسمین آگے آگے رہے، وہیں بالرز نے بھی کامیابی کے جھنڈے گاڑے اور کئی تاریخی کارنامے انجام دیے۔


ان میں سے چھ بہترین بالرز کا تذکرہ کیے بغیر بات مکمل نہیں ہوسکتی۔ آئیے ان چھ بالرز کی کارکردگی پر تفصیلی نظر ڈالیں:

سال ​2018ء کے دوران بولنگ کے شعبے میں پاکستان ٹیم کی کارکردگی شاندار رہی اور بالرز نے ٹیم کی کامیابیوں میں مرکزی کردار ادا کیا۔ خاص طور پر لیگ اسپنر یاسر شاہ اور فاسٹ بولر محمد عباس نے نہ صرف کئی ریکارڈز اپنے نام کیے بلکہ ٹیم کو بھی جیت سے ہمکنار کیا۔

یاسر شاہ

یاسر شاہ نے 2018ء کے دوران پانچ ٹیسٹ میچ کھیلے اور اُن میں مجموعی طور پر37 وکٹیں حاصل کیں۔ اس عرصے میں یاسر شاہ نے دو ایک روزہ بین الاقوامی میچز زمبابوے کے خلاف کھیلے لیکن وہ ان میچوں میں متاثر کن پرفارمنس نہ دے سکے اور صرف ایک وکٹ حاصل کی۔

اکتوبر 2014ء میں آسٹریلیا کے خلاف دبئی سے اپنے ٹیسٹ کیریئر کا آغاز کرنے والے یاسر شاہ اب تک 33 ٹیسٹ میچوں کی 64 اننگز میں 28 اعشاریہ 26 کی اوسط سے مجموعی طور پر 202 وکٹیں لے چکے ہیں۔

یاسر شاہ نے 2018ء میں ایک اہم کارنامہ سرانجام دیا اور صرف 33 ٹیسٹ میچوں میں 200 وکٹیں لے کر سابق آسٹریلوی لیگ بریک گگلی بالر کلیری گریمیٹ کا تیزترین 200 وکٹیں لینے کا 82 سال پرانا ریکارڈ اپنے نام کرلیا۔

نومبر 2018ء میں نیوزی لینڈ کے خلاف دبئی ٹیسٹ میں یاسر شاہ نے اپنے کیریئر کی بہترین کارکردگی دکھاتے ہوئے پہلی اننگز میں 8 اور دوسری اننگز میں 6 وکٹیں لے کر مجموعی طور پر 14 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ یہ کسی بھی بالر کی متحدہ عرب امارات کے کسی بھی میدان میں بہترین پرفارمنس ہے۔

یاسر شاہ کی یہ پرفارمنس کسی بھی پاکستانی بالر کی دوسری بہترین پرفارمنس ہے۔ 1982ء میں عمران خان نے سری لنکا کے خلاف قذافی اسٹیڈیم میں 116 رنز کے عوض 14 وکٹیں لی تھیں۔

یاسر شاہ اپنے ٹیسٹ کیریئر کے صرف 33 میچوں کے دوران کسی بھی اننگز میں 16 مرتبہ پانچ یا اس سے زائد جب کہ تین مرتبہ 10 یا اس سے زائد وکٹیں حاصل کرچکے ہیں۔

محمد عباس

یاسر شاہ نے لیگ اسپن کی جادوگری دکھائی تو محمد عباس نے سوئنگ بالنگ سے حریف ٹیم کے بیٹسمینوں کو زیر کیا اور 2018ء کے دوران سات ٹیسٹ میچوں میں 38 وکٹیں حاصل کیں۔

اکتوبر 2018ء میں آسٹریلیا کے خلاف ابوظہبی ٹیسٹ میں محمد عباس نے ریکارڈ ساز کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے حریف ٹیم کے 10 کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی اور متحدہ عرب امارات میں یہ کارنامہ سرانجام دینے والے پہلے فاسٹ بالر بنے۔

اس کے ساتھ ہی محمد عباس نے 12 سال بعد کسی بھی ٹیسٹ میں 10 وکٹیں لینے والے پہلے پاکستانی فاسٹ بالر کا اعزاز پایا۔ آخری مرتبہ 2006ء میں فاسٹ بالر محمد آصف نے کینڈی میں سری لنکا کے خلاف 10 وکٹیں حاصل کی تھیں۔

محمد عباس نے اس سیریز میں 10 اعشاریہ 58 کی اوسط سے 17 وکٹیں لیں جو کسی بھی پاکستانی بالر کی سب سے بہترین اوسط ہے۔

بلال آصف

رائٹ آرم آف بریک بالر بلال آصف اپنے کیریئر کے پہلے ہی ٹیسٹ میں صرف 36 رنز دے کر آسٹریلوی ٹیم کے 6 کھلاڑیوں کو آؤٹ کرکے یہ کارنامہ سرانجام دینے والے پاکستان کے گیارہویں بولر بنے۔

بلال آصف پانچ ٹیسٹ میچوں میں 26 اعشاریہ 50 کی اوسط سے 16 جب کہ تین ایک روزہ بین الاقوامی میچوں میں 19 اعشاریہ 20 کی اوسط سے 5 وکٹیں حاصل کرچکے ہیں۔

شاداب خان

شاداب خان نے 2018ء میں زمبابوے اور نیوزی لینڈ کے خلاف ون ڈے سیریز کے دوران عمدہ بالنگ کرتے ہوئے ٹیم کی فتح میں اہم کردار ادا کیا اور صرف 4 ایک روزہ بین الاقوامی میچوں میں مجموعی طور پر 15 جبکہ 19 ٹی20 میچز میں کل 28 وکٹیں حاصل کیں۔

شاہین شاہ آفریدی

2018ء میں پاکستانی اسکواڈ میں شاہین شاہ آفریدی کی صورت میں ایک اور لیفٹ آرم فاسٹ بالر کا اضافہ ہوا۔ شاہین شاہ نے نیوزی لینڈ کے خلاف اپنے کیریئر کے پہلے ٹیسٹ میں تین وکٹیں لیں۔

لیفٹ آرم فاسٹ بولر نے رواں سال افغانستان کے خلاف اپناپہلا ایک روزہ بین الاقوامی میچ کھیلا۔ وہ اب تک 6 میچوں میں 13 وکٹیں لے چکے ہیں۔ نیوزی لینڈ کے خلاف ابوظہبی میں 38 رنز کے عوض 4 وکٹ لیں جبکہ سات ٹی20 میچز میں 11 وکٹیں اپنے نام کیں۔

محمد عامر

دوسری جانب پاکستان کے بالنگ اٹیک کا سب سے اہم ہتھیار تصور کیے جانے والے لیفٹ آرم فاسٹ بولر محمد عامر اس سال کے دوران متاثر کن کارکردگی نہ دکھا سکے۔

2018ء میں محمد عامر تین ٹیسٹ میچوں میں کل 12 وکٹیں، 10 ایک روزہ بین الاقوامی میچوں میں صرف 3 اور 9 ٹی ٹوئنٹی میچز میں 14 وکٹیں لے سکے۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎