وزیراعظم ہاؤس میں بڑی تبدیلی آگئی،ملکی تاریخ میں پہلی بارحکومت کا ایسا فیصلہ جواس سے قبل کبھی نہیں ہوا

 پاکستان کا ”وزیراعظم ہاؤس“ عارضی طور پر ہی سہی مگر ایک بار پھر آباد ہونے جا رہا ہے۔ لیکن اس کے مکین خود وزیراعظم نہیں بلکہ سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور ان کے ساتھ آنے والے مہمان ہوں گے۔ جن میں سے کچھ تو اب ’وزیراعظم‘ ہاؤس میں قیام بھی کر رہے ہیں۔ سر پر عمامہ باندھے سعودی مہمان وزیراعظم ہاؤس کے اندر اور باہر جاتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔


وزیراعظم عمران خان نے وزیراعظم ہاؤس کی کالونی میں ملٹری سیکرٹری کے گھر میں رہائش اختیار کرنے کا فیصلہ کیا تھا اور وہیں مقیم رہے تھے جبکہ اب انہوں نے وہ بھی چھوڑ دیا ہے اور بنی گالہ شفٹ ہونے کا فیصلہ کر لیا ہے۔سعودی ولی عہد اور وزیر دفاع شہزادہ محمد بن سلمان کی آمد سے قبل وزیراعظم ہاؤس میں مرمت کا کام کیا گیا جبکہ ولی عہد کی آمد سے قبل ہی وزیراعظم ہاؤس میں مہمان کے دفتری امور فعال ہیں ان کی سکیورٹی اور دوسرا معاون عملہ وزیراعظم ہاؤس پہنچ چکا ہے۔

سعودی سکیورٹی ٹیم نے بھی پاکستان کے وزیراعظم ہاؤس کی سکیورٹی کو کلیئر قرار دیا تھا۔وزیراعظم ہاؤس کی حفاظت کے لئے پولیس اور فوج ہمیشہ موجود رہتی ہے تاہم اب فوج اور پولیس اہلکاروں کی تعداد میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔ غیرملکی مہمان کی آمد اور رہائش کے مقصد کے لئے زیراستعمال آنے کے باعث اندھیروں میں ڈوبا وزیراعظم ہاؤس ایک مرتبہ پھر سے جگمگانے لگا ہے۔

غیرملکی مہمانوں کی حفاظت کے لئے تمام قسم کے ڈرونز یا تربیتی طیارے ممنوعہ فضاءمیں اڑانے کی ممانعت ہو گی اور کسی بھی اُڑنے والی چیز کو مار گرایا جائے گا۔ وزیراعظم عمران خان سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کا نور خان ائیر بیس پر خیرمقدم کریں گے جبکہ مہمانوں کو وزیراعظم ہاؤس تک لانے کے لئے پلانز بھی تیار کر لئے گئے ہیں لیکن ان پلانز کو خفیہ رکھا گیا ہے۔ سعودی ولی عہد کی پاکستان آمد کے بعد بیشتر سرکاری سرگرمیاں وزیراعظم ہاؤس میں ہی ہوں گی۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎