چوہدری نثار نے حلف نہیں اُٹھایا نااہل کیا جائے، عدالت سے سابق وزیرداخلہ کو بہت بُری خبرسنادی گئی

لاہور ہائیکورٹ نے سابق وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار کے پنجاب اسمبلی میں حلف نہ اٹھانے کے خلاف دائر درخواست سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے الیکشن کمیشن اور دیگر حکام کو نوٹس جاری کردیئے۔


لاہور ہائیکورٹ کے جج جسٹس شاہد وحید نے ندیم سرور ایڈووکیٹ کی درخواست پر سماعت کی۔

ایڈووکیٹ ندیم سرور نے سابق وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار کے پنجاب اسمبلی میں حلف نہ اٹھانے کے خلاف دائر درخواست جمع کروائی تھی جس میں موقف اپنایا گیا تھا کہ چوہدری نثار نے حلف نہیں اُٹھایا لہذا انھیں نااہل کیا جائے.

دوران سماعت درخواست نے موقف اختیار کیا کہ نمائندوں کا حلف نہ اٹھانا عوامی نمائندگی قانون کے خلاف جبکہ حلف نہ اٹھانا آئین کے آرٹیکل 2 اے 17 اور 25 کی خلاف ورزی ہے۔

درخواست گزار نے عدالت کو بتایا کہ چوہدری نثار نے نشست پر کامیابی کے بعد تاحال پنجاب اسمبلی میں حلف نہیں اٹھایا اور انہوں نے حلف نہ اٹھاکر ووٹرز کی تذلیل کی ہے۔

درخواست میں کہا گیا کہ پنجاب اسمبلی میں چوہدری نثار کا حلقہ نمائندگی سے محروم ہوچکا ہے جس کے لیے عدالت عالیہ چوہدری نثار کی کامیابی کو کالعدم قرار دے کر حلقے میں دوبارہ انتخاب کروانے کا حکم جاری کرے۔

درخواست گزار نے استدعا کی تھی کہ عدالت الیکشن کمیشن کو انتخابات میں کامیاب ہونے والے اراکین اسمبلی کو حلف اٹھانے کا پابند کرنے کا حکم بھی دے۔

جس پر عدالت عالیہ نے الیکشن کمیشن سمیت تمام فریقین کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے درخواست پر جواب طلب کرلیا۔

 مسلم لیگ (ن) کا شکوہ ہے کہ 2013ء کے بعد بھی کئی ایسے اہم واقعات ہوئے جب وزیرِ داخلہ منظرِ عام پر کہیں نظر نہیں آئے اور یہی وجوہات آہستہ آہستہ چوہدری نثار کو پارٹی قیادت سے دور کرتی رہیں۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎