اتنے ارب دے دیں کیس ختم، چیف جسٹس نے ملک ریاض کو بڑی پیشکش کردی

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے منی لانڈرنگ کیس کی سماعت کے دوران ملک ریاض کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہرجگہ چئیرمین بحریہ کا نام کیوں آتا ہے۔ آپ سے ایک ہزار ارب روپے مانگے تھے، اب 500 ارب ہی دے دیں۔


پیر کو سپریم کورٹ میں جعلی اکاؤنٹس کیس کی سماعت ہوئی۔ اس موقع پر ملک ریاض بھی پیش ہوئے جہاں ان کا چیف جسٹس سے مکالمہ ہوا۔

چیف جسٹس نے ملک ریاض سے کہا کہ ہرجگہ چئیرمین بحریہ ٹاؤن کا نام کیوں آتا ہے۔ آپ حکومتیں بناتے اورگراتے رہے ہیں۔ آپ جوکراچی میں کر رہے ہیں کیا وہ جائزہے۔

ملک ریاض نے جواب دیا کہ انہوں نے 2005 میں پلاٹ لیا۔ اس وقت مشرف کی حکومت تھی۔ عدالت حکم کریں سب سیٹل کرنا چاہتا ہوں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ملک سے لوٹامال واپس کردیں، میں نے پہلے آپ سے ایک ہزار ارب روپے مانگے تھے۔ چلیں اب 500 ارب دے کر کیس سے جان چھڑائیں۔

جس پر ملک ریاض نے کہا کہ میرے بیٹے علی ریاض کا گھر لے لیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ علی ریاض کا گھر کہاں سے آگیا جس پر ملک ریاض نے کہا کہ گزشتہ سماعت پر آپ نے اس کا ذکر کیا تھا۔

جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ ملک ریاض سندھ حکومت کےساتھ کاروبارکرتے اور فائلوں کو پیسے لگاتے رہے۔ انہوں نے مجھے بلیک میل کرنے کی کوشش کی۔ احتجاج شروع کرادیا اور عوام کو عدالت کیخلاف اکسایا گیا۔ جتنے کھانچے لگے سب میں ملک ریاض کا نام ہے ۔۔

جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دئیے کہ کلفٹن میں بن قاسم پارک کی زمین پرقبضہ کرکےعمارت بنائی گئی۔ بعد زاں کیس کی سماعت اگلے پیرتک ملتوی کردی گئی



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎