جعلی بینک اکاؤنٹس کیس میں 172 افراد کے نام ای سی ایل میں ڈالنا حکومت کو مہنگا پڑ گیا، چیف جسٹس نے اہم قدم اٹھا لیا

اسلام آباد: (دنیا نیوز) چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ جس نے 172 افراد کے نام ای سی ایل میں ڈالے وہ 15 منٹ میں پیش ہو، لوگوں کو آزادی کا حق ہے۔


سپریم کورٹ میں جعلی بینک اکاؤنٹس کیس کی سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس نے کہا 172 افراد کے نام ای سی ایل میں ڈال دیئے گئے، دوسرے بڑے صوبے کے وزیراعلیٰ کا نام ای سی ایل میں ڈال دیا گیا، وفاقی حکومت نے لوگوں کے نام ای سی ایل میں کیوں شامل کر دیئے ؟ اس کیس میں نیشنل بینک کے سوا کسی کا کردار نہیں، یہ تو کسی بینک کی طرف سے درخواست ہے۔

یاد رہے گزشتہ سماعت کے دوران سربراہ جے آئی ٹی ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے احسان صادق کی جانب سے عدالت کو بتایا کہ کراچی اور لاہور بلاول ہاؤس کے پیسے جعلی اکاؤنٹس سے ادا کئے گئے جبکہ بلاول ہاؤس لاہور کی اراضی زرداری گروپ کی ملکیت ہے۔

جے آئی ٹی رپورٹ میں کہا گیا کہ جعلی بینک اکاؤنٹس سے آصف علی زرداری کے ذاتی اخراجات کی ادائیگیاں کی گئیں، بلاول ہاؤس کے کتے کے کھانے، صدقے کے 28 بکروں کے اخراجات بھی جعلی بینک اکاؤنٹس سے دیئے گئے۔

سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی 128 صفحات پر مشتمل جے آئی ٹی رپورٹ میں کہا گیا کہ ان بینک اکاؤنٹس کو کمیشن کی رقم لینے اور منی لانڈرنگ کےلیے استعمال کیا گیا، بلاول کے بم پروف کنٹینر اور گاڑیوں کی خریداری کے لیے ایک کروڑ 46 لاکھ کی ادائیگی بھی جعلی بینک اکاؤنٹس سے ہوئی۔

جے آئی ٹی رپورٹ میں کہا گیا کہ فریال تالپر کے گھر، زرداری ہاؤس کے سیمنٹ، آصف زرداری اور خاندان کے لیے ایئر ٹکٹس کی ادائیگیاں، بلٹ پروف گاڑیوں، بلاول ہاؤس نوڈیرو کے بلوں کی ادائیگیاں بھی جعلی اکاؤنٹس سے کی گئیں۔

منی لانڈرنگ کیس 2015 میں پہلی دفعہ اسٹیٹ بینک کی جانب سے اٹھایا گیا، ایف آئی اے کو مشکوک ترسیلات کی رپورٹ یعنی ایس ٹی آرز بھیجی گئیں، حکام کا دعویٰ تھا کہ جعلی اکاؤنٹس بینک منیجرز اور انتظامیہ کی ملی بھگت سے اومنی گروپ کے کہنے پر کھولے گئے جن سے اربوں روپے کی منی لانڈرنگ کی گئی۔

ایف آئی اے حکام کے دعوے کے مطابق تمام بینک اکاؤنٹس اومنی گروپ کے پائے گئے، انکوائری میں مقدمہ درج کرنے کی سفارش ہوئی تاہم مبینہ دباؤ کے باعث کوئی مقدمہ نہ ہوا بلکہ انکوائری بھی روک دی گئی۔

دسمبر 2017 میں ایک بار پھر اسٹیٹ بینک نے ایس ٹی آرز بھیجیں، اس رپورٹ میں مشکوک ترسیلات جن اکاؤنٹس سے ہوئی ان کی تعداد 29 تھی، جن کے ذریعے 35 ارب روپے کی منی لانڈرنگ کا معاملہ سامنے آیا۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎