عدالت نے آصف زرداری کو بڑی خوشخبری دے دی

کراچی میں بینکنگ کورٹ میں ہونے والی سماعت کے موقع پر آج سابق صدر آصف زرداری اور ان کی ہمشیرہ فریال تالپور سمیت دیگر ملزمان عدالت میں پیش ہوئے۔


سابق صدر آصف علی زرداری اور ان کی بہن رکن قومی اسمبلی فریال تالپور کی ضمانت میں ایک بار پھر توسیع کر دی ہے.

دوسری جانب سپریم کورٹ نے بھی چئیرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو اور وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے نکالنے کا حکم دیا ہے جبکہ جے آئی ٹی رپورٹ پر نیب کو بھیجنے کا بھی حکم دیا گیا ہے۔

  سپریم کورٹ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اگر نیب سمجھتاہے کہ ان شواہد کی بناء پر کوئی قانونی کارروائی ہوسکتی ہے تو وہ ایکشن لینے میں آزاد ہے۔

 تاہم سپریم کورٹ کی جانب سے حکم امتناع کے باعث سماعت بغیر کسی کارروائی کے ملتوی اور سابق صدر آصف زرداری، رکن قومی اسمبلی فریال تالپور سمیت دیگر ملزمان کی ضمانت قبل ازگرفتاری میں بھی 23 جنوری تک توسیع کر دی گئی۔

پیپلز پارٹی کی قیادت آج ہونے والی پیش رفت کو اپنی کامیابی اور موقف ٹھیک ثابت ہونے سے تعبیر کررہی ہے۔ پیپلز پارٹی کے رہنما اور مشیر اطلاعات سندھ مرتضیٰ وہاب کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت کی قیادت عدالتوں کے سامنے پیش ہوتی رہی ہے۔ ہم بارہا کہتے تھے کہ ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں نام شامل کرنا حکومتی بددیانتی ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت کو سیاسی انتقام کے بجائے امور مملکت بہتر بنانے پر توجہ رکھنا چائیے۔

تاہم تجزیہ کاروں کی رائے کچھ مختلف نظر آتی ہے۔ سینئر صحافی اور تجزیہ کار مجاہد بریلوی کا کہنا ہے کہ بلاول بھٹو اور مراد علی شاہ کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے نکالنا پارٹی کے لئے مکمل ریلیف قرار نہیں دیا جاسکتا۔ ان کے مطابق پیر کا روز پیپلز پارٹی کے لئے قدرے بہتر تو رہا ہے۔ بیرون ملک جانے پر پابندی ہٹنے سے پیپلز پارٹی کی قیادت پر کسی قدر دباؤ بھی ضرور کم ہوا ہے لیکن اب تک یہ وقتی ہی نظر آتا ہے۔ منی لانڈرنگ کیس میں جن 172 افراد کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کئے گئے ہیں ان میں سے بیشتر پارٹی قیادت کا حصہ یا پھر ان کے قریبی رفقاء ہی ہیں۔

مجاہد بریلوی نے اس تاثر کو بھی رد کیا ہے کہ اندرون خانہ پیپلز پارٹی کی قیادت کی ملک کی مقتدر طبقات کے ساتھ کوئی ڈیل ہوگئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پہلی بار دیکھنے میں آیا ہے کہ آصف زرداری اور ان کے رفقاء کی مبینہ کرپشن کے معاملات پر حکومت، فوج یا عدلیہ کوئی ریلیف دیتی نظر نہیں آتی جبکہ ایسا لگتا ہے کہ کیس کی تحقیقات کرنے والی ٹیم نے بھی انتہائی جانفشانی کے ساتھ ثبوت اکھٹے کئے ہیں جن میں سے بعض کو ناقبل تردید کہا جارہا ہے۔

جوائنٹ انویسٹی گیشن رپورٹ کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ایف آئی اے نے ایسے شواہد پیش کئے ہیں جو ناقابل تردید ہیں۔ مجاہد بریلوی کے مطابق یقینا ً آصف زرداری کے لئے دباؤ، مقدمات اور جیل کوئی نئی چیزیں نہیں لیکن ابھی پریشانی کے بادل ان کے لئے مکمل چھٹے نہیں ہیں۔ منی لانڈرنگ اور جعلی بینک اکاؤنٹس کے معاملات نیب کو بھیجے گئے ہیں اور فی الحال کوئی ایسی وجہ نظر نہیں آتی کہ نیب ان معاملات پر کوئی سخت ایکشن نہیں لے گی۔

دوسری جانب سے تحریک انصاف کے رہنما اور سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر فردوس شمیم نقوی نے پیپلز پارٹی کی جانب سے عدالتی فیصلوں کے احترام کے بیان کو خوش آئند قرار دیا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی وفاقی حکومت بلا تفریق احتساب پر یقین رکھتی ہے۔ سپریم کورٹ نے یہ کہیں نہیں کہا کہ منی لانڈرنگ سے متعلق مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ بے بنیاد ہے۔ ابھی انصاف کے تقاضے پورے ہونے کے لئے مختلف مراحل باقی ہیں اور پیپلز پارٹی کی قیادت کو تفتیش کاروں کے سامنے پیش ہو کر اپنی بے گناہی ثابت کرنا ہو گی۔

سابق صدر آصف علی زرداری اور ان کی بہن فریال تالپور سمیت دو درجن سے زائد ملزمان پر اس کیس میں الزام ہے کہ انہوں نے جعل سازی کے ذریعے جعلی بینک اکاؤنٹس قائم کیے اور اب تک کی تحقیقات کے مطابق 30 ارب روپے سے زائد کے کالے دھن کو سفید کیا۔ جعلسازی اور انسداد منی لانڈرنگ ایکٹ کی مختلف دفعات کے تحت قائم یہ مقدمہ کراچی کی بینکنگ کورٹ میں زیرسماعت ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وقتی ریلیف سے پیپلز پارٹی کی قیادت اور صوبائی حکومت کو کسی قدر سنبھلنے کا موقع ضرورملے گا۔ عدالتی اور قانونی جنگ اپنی جگہ لیکن پیپلز پارٹی کو کارکردگی کی بنیاد پر بھی سندھ میں اپنی لڑائی لڑنی پڑے گی جس میں پارٹی نے گذشتہ دس سال میں کوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں کی اور اس کے باوجود بھی اب تک پارٹی پر عوامی اعتماد میں یہاں کوئی کمی دیکھنے میں نہیں آئی۔ لیکن تحریک انصاف اگر صوبے میں کچھ ترقیاتی کام کروانے میں کامیاب ہوتی ہے تو پیپلز پارٹی کے ووٹ بینک کو دھچکا لگ سکتا ہے۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎