سپریم کورٹ نے اورنج لائن میٹروٹرین منصو بے پرحکومت کو واضح حکم جاری کردیا

سپریم کورٹ میں اورنج لائن میٹرو ٹرین منصوبے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی جہاں ایل ڈی اے اور تعمیراتی کمپنی کے وکلا پیش ہوئے۔


چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ منصوبے سے کئی لوگ مثاثر ہوئے، کیچڑ اور گندے پانی سے شہر میں بیماریاں پھیل رہی ہیں، مقررہ وقت پر کام مکمل نہ ہوا تو کمپنیوں پر جرمانہ عائد کریں گے۔

سپریم کورٹ نے اورنج لائن میٹرو ٹرین منصوبہ مقررہ مدت میں مکمل کرنے کا حکم دیتے ہوئے لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (ایل ڈی اے) کو تعمیراتی کمپنیوں کو بروقت ادائیگیوں کی بھی ہدایت کردی۔

چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے منصوبے کو عدالت خود سپروائزکررہی ہے، عوامی سہولت کے پیش نظر ٹائم فریم مانگا تھا، ناقص کام ہوا تو سزا بھی عدالت ہی دے گی۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ہمارا صرف ایک مقصد ہے وہ ہے مفاد عامہ، لوگوں نے اورنج ٹرین کے لیے بہت مشکلات جھیلی ہیں، لوگ اپنے گھروں تک گاڑیاں نہیں لے کر جا سکتے۔

انہوں نے مزید ریمارکس دیئے کہ ہم صرف یہ چاہتے ہیں کہ اورنج لائن منصوبہ مقررہ وقت پر مکمل ہو، میں کریڈٹ نہیں لینا چاہتا لیکن لاہور میں سیوریج کے پانی کا بہت بڑا مسئلہ تھا اور سارا گندا پانی راوی میں جا رہا ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ پچھلی صوبائی حکومت نے مسئلہ حل کرنے کا وعدہ کیا، اِس حکومت کو بھی ہم نے یاد دلایا، اورنج لائن منصوبہ مکمل ہونے تک نگرانی کریں گے۔

نجی کمپنی کے وکیل نعیم بخاری نے عدالت کو بتایا کہ ایل ڈی اے منصوبے کو مکمل نہیں کرنا چاہتا، ہمیں ایک ارب کی ادائگیاں نہیں کی جا رہی ہے۔

ٹھیکیدار کے وکیل شاہد حامد نے عدالت کو بتایا کہ ایل ڈی اے نے 60 کروڑ میرے 40 کروڑ دوسرے ٹھیکیدار کو ادا کیے جانے ہیں۔

وکیل ایل ڈی اے نے موقف اپنایا کہ ادائیگی کے لیے کمپنیوں کے کام کی پیمائش ہونی ضروری ہے، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ کمپنیوں کو پیسہ ملے گا تو کام ہوگا، بلوں کی ادائیگی تعمیراتی کمپنیوں کے لیے شہ رگ کی حیثیت رکھتی ہے۔

بعد ازاں عدالت نے تعمیراتی کمپنیوں کو ایک ارب روپے کی ادائیگیوں کے چیک آئندہ سماعت پر پیش کرنے کا حکم بھی دیا جبکہ کمپنیاں ایل ڈی اے کو ایک ارب کی بینک گارنٹی فراہم کرنے کی بھی پابند ہوں گی۔

چیف جسٹس نے کمپنیوں کو خبردار کیا کہ مقررہ وقت تک کام مکمل نہ ہوا تو جرمانہ بھی ہوگا جس کے بعد کیس کی سماعت پیر تک ملتوی کردی گئی۔

گزشتہ ماہ سپریم کورٹ نے اورنج لائن میٹرو ٹرین منصوبے کی تکمیل اور کمپنیوں کی ادائیگی سے متعلق کیس میں ایک عدالتی ثالث مقرر کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎