موٹاپے سے چھٹکارے کے لیے مدد گارغذائیں، ایک بار ضرورآزمائیں

موٹاپا کس کو پسند ہوتا ہے؟


یہ نہ صرف ظاہری شخصیت کو تباہ کردیتا ہے بلکہ یہ امراض کی جڑ بھی ثابت ہوتا ہے کیونکہ اس سے ذیابیطس، بلڈپریشر، امراض قلب اور فالج غرض کہ لاتعداد بیماریوں کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔

اور یہ تو سب کو ہی معلوم ہے کہ موٹاپا اب ایک عالمی وباءبن چکا ہے مگر وزن میں کمی کا کوئی جادوئی حل نہیں بلکہ طرز زندگی میں تبدیلی ہی سے آپ اپنی شخصیت میں جادوئی تبدیلی لاسکتے ہیں۔

تاہم کیا آپ کے خیال میں کم کھانا ہی جسمانی وزن کم کرنے کا بہترین طریقہ ہے ؟ تو ایسا بالکل نہیں درحقیقت اپنی پلیٹوں کو پھلوں، سبزیوں، نٹس اور دیگر سے بھر کر آپ چربی گھلانے کا عمل زیادہ تیز کرسکتے ہیں۔

ایسی ہی غذاﺅں کے بارے میں جانے جن کا استعمال آپ کو موٹاپے سے بچاﺅ یا توند میں کمی لانے میں مدد فراہم کرتا ہے۔

اکثر افراد سمجھتے ہیں کہ انڈے کھانا کولیسٹرول لیول بڑھانے کا باعث بن سکتا ہے، مگر یہ درست نہیں۔ دوسری جانب انڈے معیاری پروٹین کا حصول کا بہترین ذریعہ ثابت ہوتے ہیں جو جسم میں جذب ہوکر مسلز کا حجم بڑھاتے ہیں، جبکہ اس میں موجود وٹامنز اور دیگر اجزا میٹابولزم کو بہتر کرتے ہیں، اگر ناشتے میں روز ان کا استعمال کیا جائے تو بہت جلد موٹاپے میں نمایاں کمی لانا ممکن ہے۔ ایک تحقیق میں سائنسدانوں نے دریافت کیا کہ محض 5 دن تک ناشتے میں 2 انڈے کھانے سے جسمانی وزن میں کافی حد تک کمی لائی جاسکتی ہے۔

موٹاپے کی اصل وجہ یہ ہوتی ہے کہ ہم جتنا کھاتے ہیں اتنی کیلوریز جلا نہیں پاتے، سبزیاں اور پھل اس معاملے میں جادوئی ہوتے ہیں، جو پیٹ کو زیادہ دیر تک بھرا رکھنے کے ساتھ جسمانی وزن بھی نہیں بڑھاتے۔ ان میں موجود فائبر اور پانی آپ کو زیادہ کھانے بھی نہیں دیتے۔

گریاں توانائی، پروٹین اور معیاری فیٹ کا ذخیرہ ہوتی ہیں، ان میں ان سچورٹیڈ فیٹ ہوتا ہے اور چربی کی یہ قسم مختلف امراض بشمول امراض قلب سے تحفظ فراہم کرتی ہے، تاہم گریوں کی مقدار کا خیال رکھنا ضروری ہوتا ہے، بہت زیادہ مقدار کھانے پر وزن بڑھ بھی سکتا ہے۔ مختلف طبی تحقیقی رپورٹس کے مطابق گریوں کا استعمال موٹاپے کی روک تھام میں مدد دیتا ہے جبکہ موٹاپے کا خطرہ بھی 31 فیصد تک کم ہوتا ہے۔

اگر تو آپ پانی کو کھانے سے کچھ دیر پہلے پینا عادت بنالیں تو 12 ہفتے میں جسمانی وزن میں 8 سے 10 کلو تک وزن کم کرسکتے ہیں، جرمنی میں ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق سترہ اونس پانی کے استعمال سے میٹابولک کی شرح میں تیس فیصد اضافہ ہوجاتا ہے جو کہ کیلیوریز کو جلانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ پانی پینا آپ کی پیاس کو بھی بجھاتا ہے اور اس طرح پیاس کو بھوک سمجھنے کی غلطی کا امکان ختم ہوجاتا ہے۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎