کینسر کے علاج کا نیا طریقہ دریافت برطانوی سائنس دان

ایک ماہ قبل ہی برطانوی سائنسدانوں نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ جان لیوا مرض کینسر کے علاج کا نیا طریقہ دریافت کرنے میں کامیاب گئے ہیں۔


برطانوی سائنسدانوں نے کہا تھا کہ وہ کینسر کے علاج کے لیے ایک ایسا طریقہ بنانے میں ابتدائی طور پر کامیاب ہوگئے ہیں، جس کے ذریعے انسان کے اندر ہی عارضی خلیاتی بینک قائم کیا جائے گا۔

ماہرین کا کہنا تھا کہ خلیاتی بینک سے ہی خلیات انسانی جسم کے دیگر حصوں میں منتقل کرکے کینسر سمیت دیگر بیماریوں کے اثرات کو ختم کیا جا سکے گا۔

ساتھ ہی ماہرین نے کہا تھا کہ وہ ابھی اس نئے طریقے بنانے کے ابتدائی مرحلے میں ہیں اور انہیں مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

تاہم اب امریکی ماہرین نے بھی کینسر کا ایک نیا مگر برطانوی ماہرین کے طریقے سے ملتا جلتا نیا نظام بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔

امریکی ماہرین کے مطابق وہ انسانی جسم میں موجود ’ ٹی سیل‘ کے نظام سے ایسے طاقتور سیل حاصل کرکے ان کے ذریعے ہی کینسر کے سیلز کو ختم کرنے کرنے کے نئے طریقے کو بنانے میں کامیاب گئے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طریقہ کار کے تحت خود متاثرہ شخص کے جسم میں موجود خون کے سفید خلیات سمیت دیگر طاقتور خلیات کو کینسر کے وائرسز کو ختم کرنے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

ماہرین کا کہنا تھا کہ وہ ابھی اس نئے نظام کو بنانے کے ابتدائی مرحلے میں ہیں اور انہیں امید ہے کہ وہ اس نئے طریقے کو مکمل طور پر بنانے میں کامیاب جائیں گے۔

تاہم ماہرین نے اعتراف کیا کہ کہ طریقہ کینسر سے متاثر ہر شخص کے لیے فائدہ مند نہیں ہوگا۔

ماہرین نے وضاحت کی کہ بعض کینسر کے شکار مریض ایسے بھی ہوتے ہیں، جن کے خون کے سفید خلیات انتہائی کم اور کمزور ہوتے ہیں، جو کینسر کے وائرس کا مقابلہ نہیں کرسکتے، اس لیے یہ طریقہ کچھ مریضوں کےلیے فائدہ مند نہیں ہوگا۔

ساتھ ہی ماہرین نے امید ظاہر کی کہ اس طریقے پر مسلسل تحقیق کے دوران مزید بہتریاں بھی ہوسکتی ہیں۔

خیال رہے کہ کینسر کے مریضوں کا علاج کرنے کے لیے اب بھی ڈاکٹرز اس سے ملتے جلتے طریقے کے ذریعے ہی کچھ مریضوں کا علاج کرتے ہیں۔

تاہم امریکی ماہرین کے دریافت کئے گئے اس نئے طریقے کے بعد زیادہ تر مریضوں کا اسی طریقے کے ذریعے علاج کیے جانے کا امکان ہے۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎