امریکا: شٹ ڈاؤن سے معیشت کو 11 ارب ڈالر کا خسارہ

امریکا میں 5 ہفتے تک جاری رہنے والے حکومتی شٹ ڈاؤن کے نتیجے میں امریکی معیشت کو 11 ارب ڈالر کا خسارہ ہوا جو میکسکو کی سرحد پر دیوار بنانے کے لیے مانگے گئے فنڈ سے دوگنا ہے۔


ایک اندازے کے بعد مطابق سیاسی تنازع کی وجہ سے معیشت کو پہنچنے والے نقصانات اہم تھے لیکن اگر شٹ ڈاؤن جاری رہتا تو معیشت کو اس سے زیادہ سنگین نقصان پہنچ سکتا تھا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ ’معیشت میں ہونے والے خسارے سے انفرادی کاروباروں اور ملازمین پر کئی گنا زیادہ اثرات مرتب ہوئے ہیں‘۔

کانگریس کے بجٹ آفس کی رپورٹ کے مطابق ’نجی سیکٹر میں کام کرنے والے بعض ادارے اپنا نقصان پورا نہیں کرسکیں گے‘۔

رپورٹ کے مطابق رواں سال 2018 کی آخری سہ ماہی اور 2019 کے آغاز میں ہونے والے نقصانات پرقابو پانے کی وجی سے معیشت کی پیداوار میں عارضی طور پر کمی آئے گی۔

امریکا کی تاریخ کے طویل ترین جزوی شٹ ڈاؤن کی وجہ سے 8 لاکھ وفاقی ملازمین اپنی تنخواہوں سے محروم ہوگئے تھے جنہیں اس ہفتے ان کی تنخواہیں دی جائیں گی لیکن حکومت میں کانٹریکٹ پر کام کرنے والوں کو ان کی نہ ملنے والی تنخواہ شاید نہیں دی جاسکے گی۔

خیال رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے 25 جنوری کو عارضی طور پر حکومت بحال کرنے کے سمجھوتے پر اتفاق کیا تھا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے 2016 کی انتخابی مہم میں دعویٰ کیا تھا کہ یہ دیوار غیرقانونی تارکین وطن اور منشیات کی اسمگلنگ روکنے میں مدد دے گی لیکن ڈیموکریٹس نے اس دعوے کو مسترد کردیا تھا۔

بعد ازاں 27 جنوری کو ڈونلڈ ٹرمپ نے وال اسٹریٹ جنرل کو بتایا تھا کہ اس بات کے 50 فیصد سے بھی کم امکانات ہیں کہ حکومتی قانون ساز سرحد پر سیکیورٹی سے متعلق ان کے لیے قابل قبول معاہدے پر اتفاق کریں گے



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎