فلیگ شپ اور العزیزیہ ریفرنسز۔۔۔ عدالت کی جانب سے بڑا اعلان کردیا گیا


احتساب عدالت نے مسلم لیگ ن کے بانی اور سابق وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف دونوں ریفرنسز پر مزید مہلت دینے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے فیصلے محفوظ کر لیے ہیں۔

سابق وزیراعظم کے خلاف فلیگ شپ اور العزیزیہ ریفرنسز پر فریقین وکلاء کے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلے محفوظ کیے گئے ، جبکہ نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث کی جانب سے کیس میں ایک ہفتے کی مزید مہلت کی درخواست کی گئی جسے عدالت کی طرف سے مسترد کردیاگیا۔

احتساب عدالت کے جج ارشد ملک نے ریمارکس دیئے کہ بیان ریکارڈر کرنے کے بعد ملزم نے مزید وقت مانگا، جبکہ مزید وقت مانگنے کی درخواست پر نیب کا موقف تھا کہ مزید مہلت فیصلے میں تاخیر کا باعث بن سکتی ہے۔

نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے عدالت میں نئی دستاویزات پیش کرتے ہوئے نیب ریفرنسز کے قانونی نکات پر حتمی دلائل مکمل کیے جس کے بعد پراسیکیوٹر نیب کے دلائل جاری ہیں۔

خواجہ حارث نے دلیل دی کہ نواز شریف کی یہ ملازمت صرف ویزا حاصل کرنے کے لیے تھی، وہ وہاں سے تنخواہ لے سکتے تھے مگر انہوں نے ایسا نہیں کیا۔

خواجہ حارث نے اپنے موقف پر دلیل دی کہ سپریم کورٹ نے کہا اگر وہ تنخواہ آپ نے نہیں بھی نکلوائی پھر بھی اثاثہ ہے جس پر میرا مؤقف ہے کہ تنخواہ کا تعین صرف ملازمت کے کنٹریکٹ کی حد تک تھا اور وہ صرف کنٹریکٹ کی ضرورت پوری کرنے کے لیے تھا، مقصد تنخواہ لینا نہیں تھا۔

انہوں نے کہا نواز شریف کا اس کمپنی میں عہدہ صرف رسمی تھا،کمپنیاں چلانے سے اُن کا کوئی تعلق نہیں تھا، جج ارشد ملک نے استفسار کیا تنخواہ سے متعلق آپ کا مؤقف درست مان لیں تو اس کا کیس سے کیا تعلق بنتا ہے جس پر خواجہ حارث نے کہا تعلق یہ بنتا ہے کہ نواز شریف کی صرف ملازمت ثابت ہو رہی ہے ملکیت نہیں۔

نواز شریف کے وکیل نے کہا جسٹس آصف سعید کھوسہ کے 20 اپریل والے فیصلے پر نظرثانی نہ کرنے کا بھی جواب دیتا ہوں، اکثریتی فیصلہ ہی ہمیشہ اصل فیصلہ مانا جاتا ہے، 3 ججز نے جے آئی ٹی بنوائی تھی اور انہوں نے اپنا فیصلہ جے آئی ٹی رپورٹ دیکھ کر ہی دیا اور 28 جولائی کو ان 3 ججز کے فیصلے پر پانچوں ججوں نے دستخط کیے۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎