حکومت اوراپوزیشن میں اتفاق ہوگیا

 کئی ماہ کے طویل انتظار کے بعد بالآخر حکومت اوراپوزیشن قومی اسمبلی کی 38 قائمہ کمیٹیوں کی چیئرپرسن شپ کی تقسیم کے لیے فارمولے پر رضا مند ہوگئے۔


اس فارمولے کے تحت 20 کمیٹیوں کی چیئرپرسن شپ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے پاس ہوگی جبکہ باقی 18 کی چیئرپرسن شپ اپوزیشن کو دی جائے گی۔

قائمہ کمیٹیوں کی چیئرپرسن شپ کی تقسیم کے فارمولے کو حتمی شکل پارلیمنٹ ہاؤس میں اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی سربراہی میں منعقدہ اجلاس میں دی گئی، اس اجلاس میں پاکستان مسلم لیگ(ن) سمیت تمام جماعتوں کے پارلیمانی رہنماؤں نے شرکت کی۔

واضح رہے کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی چیئرپرسن شپ پر اختلاف ان تمام کمیٹیوں کے قیام میں تاخیر کی اصل وجہ تھی۔

حکومت اور اپوزیشن اس فارمولے پر متفق ہوئے ہیں کہ اپوزیشن کو ان 12 قائمہ کمیٹیوں کی چیئرمین شپ دی جائے گی جو مسلم لیگ(ن) کے سابق دور حکومت میں اپوزیشن کے پاس تھیں، اس کے علاوہ موجودہ اپوزیشن کو 6 مزید قائمہ کمیٹیاں دی جائیں گی۔

تاہم یہ ابھی تک واضح نہیں ہے کہ کونسی 6 اضافی کمیٹیوں کی قیادت اپوزیشن کو دی جائے گی۔

اپوزیشن کو دی جانے والی 18 کمیٹیوں میں 10 کی قیادت مسلم لیگ(ن)، 6 پاکستان پیپلز پارٹی اور 2 متحدہ مجلس عمل کو دی جائے گی۔

دوسری جانب ایک نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے قومی اسمبلی کے اسپیکر اسد قیصر کا کہنا تھا کہ ایوان زیریں کی قائمہ کمیٹیوں کی قیادت کے معاملے پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اتفاق رائے ہوا ہے اور اب اس معاملے پر کوئی ڈیڈ لاک نہیں ہے۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎