کیا جنوبی پنجاب صوبے کیلیے حکومت اور اپوزیشن میں اتفاق ہو گیا؟

اسلام آباد: مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف کا کہنا ہے کہ جنوبی پنجاب صوبے کے قیام کے لیے بل فوری طور پر اسمبلی میں لا رہے ہیں۔


قومی اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کی صدارت میں ہوا، قومی اسمبلی کے قواعد میں ترمیم کے بعد پہلی مرتبہ اجلاس کے آغاز میں تلاوت اور نعت کے بعد قومی ترانہ بجایا گیا۔

انہوں نے جنوبی پنجاب صوبے کا قیام فوری عمل میں لانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ جنوبی پنجاب صوبے کا بل لا رہے ہیں، حکومت حمایت کرے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے خود جنوبی پنجاب صوبے کا وعدہ کیا تھا لہٰذا وہ اب اس سے بھاگے نہیں، ہم جنوبی پنجاب صوبے کے قیام کے لیے حکومت سے مکمل تعاون کریں گے اور دل و جان سے جنوبی پنجاب صوبے کے قیام کے لیے تیار ہیں۔

اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے بجلی کی قیمتوں میں اضافے کا معاملہ قومی اسمبلی میں اٹھاتے ہوئے کہا کہ مہنگائی نے عوام کی کمر توڑ دی ہے، استدعا ہے کہ مہنگائی کی صورتحال پر بحث کا ایک دو دن میں وقت مقرر کر دیں۔

اس موقع پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رکن عامر ڈوگر نے کہا کہ اپوزیشن پوائنٹ اسکورنگ کررہی ہے، 5 سال مسلم لیگ (ن) کی حکومت رہی اس دور میں صوبہ بنانے کے حوالے سے کوئی کوشش نہیں کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ جنوبی پنجاب صوبے کا قیام ہمارا وعدہ تھا اور ہم اسے پورا کرنا چاہتے ہیں، لیکن اس معاملے کو (ن) لیگ ٹوئسٹ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

شہباز شریف نے عامر ڈوگر کے اظہار خیال پر کہا کہ یہ پوائنٹ اسکورنگ نہیں ہے، ماضی کی بات نہ کریں ورنہ بات دور تک جائے گی، حکومت اپنا وعدہ پورا کرے اور جنوبی پنجاب صوبے کے قیام کے لیے نجی بل کی حمایت کرے۔

حکومت کی اتحادی جماعت پاکستان مسلم لیگ کے رکن چوہدری طارق بشیر چیمہ نے جنوبی پنجاب کے بجائے بہاولپور صوبے کا مطالبہ کردیا۔

انہوں نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ بہاولپور میں ریفرنڈم کرائیں، پتہ چل جائے گا عوام بہاولپور صوبہ بحالی چاہتے ہیں یا جنوبی پنجاب۔

انہوں نے کہا کہ جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے کے نام پر سیاست کی گئی، یہاں کے وڈیرے صدر، وزیر اعظم رہے لیکن کبھی کوئی کام نہیں کیا، جبکہ وزیر اعظم کی تقریریں موجود ہیں کہ بہاولپور صوبہ بنائیں گے۔

وزیر خارجہ اور پی ٹی آئی رہنما شاہ محمود قریشی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف، جنوبی پنجاب صوبے پر ایک واضح موقف لے چکی ہے اور ہم نے اس معاملے کو اپنے منشور میں شامل کیا۔

انہوں نے کہا کہ جنوبی پنجاب صوبے پر جب بھی کوئی پیش رفت ہوئی کوئی نہ کوئی رخنہ ڈال دیا جاتا تھا لیکن اس معاملے پر ملک میں اب سیاسی اتفاق رائے نظر آ رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا جنوبی پنجاب صوبہ بننے سے پسماندگی کم ہو گی جبکہ نیا صوبہ بننے سے تین صوبوں پر پنجاب کی برتری بھی ختم ہو جائے گی، لیکن الگ صوبے کے لیے آئینی ترمیم ضروری ہے اور ہمارے پاس دو تہائی اکثریت نہیں ہے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی سے گزارش ہے کہ جنوبی پنجاب صوبے کے معاملے پر اکٹھے بیٹھیں اور ساری جماعتوں کی سینیئر لیڈرشپ پر مشتمل ایک کمیٹی بنائی جائے۔

انہوں نے کہا کہ آئندہ مالی سال میں جنوبی پنجاب کے لیے الگ ترقیاتی پروگرام لائیں گے اور وزیر اعلیٰ پنجاب کو حاصل اختیارات کے ذریعے فی الحال جنوبی پنجاب کو الگ سیکریٹریٹ دیں گے۔

قومی اسمبلی نے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی اور قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کی تشکیل کی تحریک منظور کر لی۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎