حکومت کی 2 اتحادی جماعتیں، اپوزیشن کی ہمنوا بن گئیں

 حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی ) کو اس وقت خفت کا سامنا کرنا پڑ جب اس کی 2 اتحادی جماعتوں ایم کیو ایم اور بی این پی نے پاکستان مسلم لیگ کے رہنما اور سابق وزیر ریلوےخواجہ سعد رفیق کے پروڈکشن آرڈر کے لیے اپوزیشن کا ساتھ دیا۔


قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے یہ کہا تھا کہ سعد رفیق کو اجلاس میں شرکت کی اجازت نہ ملنے تک ان کا اس ایوان میں بیٹھنا نا ممکن کے جس کے بعد قومی اسمبلی کے اجلا س میں تمام اپوزیشن اراکین نے واک آؤٹ کردیا تھا۔

واک آؤٹ کرنے والی جماعتوں میں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) عوامی نیشنل پارٹی(اے این پی) اور متحدہ مجلس عمل (ایم ایم اے) شامل تھیں۔

واک آؤٹ کرنے کے بعد اپوزیشن اراکین واپس ایوان میں داخل ہوئے تا کہ کورم کی نشاندہی کر کے اجلاس کی کارروائی متاثر کر سکیں لیکن اسپیکر نے ایوان میں موجود اراکین کی گنتی کے بعد ایوان کی کاروائی ایجنڈے کے مطابق جاری رکھنے کی ہدایت کی۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئےے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اپوزیشن اراکیسے مطالبہ کیا کہ وہ اپنا احتجاج ریکارڈ کروانے کے بعد ایوان میں واپس آئیں او معمول کی کارروائی میں حصہ لیں کیوں کہ ایوان کو چلانا حکومتی اور اپوزیشن دونوں اراکین کی ذمہ داری ہے۔

قبل ازیں ایوان میں خطاب کرتے ہوئے ایم کیو ایم کے رکنِ اسمبلی سید امین الحق نے کہا کہ حکومتی اتحاد کا حصہ ہونے کے ساتھ ان کی جماعت کی اپنی علیحدہ حیثیت بھی ہے اور ایم کیوایم پارلیمنٹ اور قومی اداروں میں قانون کی حکمرانی اور جمہوریت پر یقین رکھتی ہے۔

انہوں نے اسپیکر قومی اسمبلی سے مطالبہ کیا کہ مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ سعد رفیق کے پروڈکشن آرڈر جاری کیے جائیں اور اس کے لیے انہوں نے 1989میں پی پی پی دورِ حکومت میں شیخ رشید اور مسلم لیگ (ن) کی حکومت میں آصف علی زرداری کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کی مثال پیش کی ۔

ایم کیو ایم کے رکنِ اسمبلی کا مزید کہنا تھا کہ حکومتی بینچز پر بیٹھنے والے اراکین یہ بات اپنے ذہن میں رکھیں کہ وہ یہاں مستقل نہیں بیٹھیں گے۔

بعدازاں بی این پی مینگل کے آغا حسن بلوچ نے بھی اسپیکر سے سعد رفیق کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کا مطالبہ کیا۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎