حکومت نے حمزہ شہباز کو بڑی خوشخبری دے دی

 وفاقی وزارت داخلہ نے لاہور ہائیکورٹ کے حکم پر پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر میاں حمزہ شہباز کا نام بلیک لسٹ سے نکال دیا ہے۔


دنیا نیوز ذرائع کے مطابق وزارت داخلہ نے لیگی رہنما حمزہ شہباز شریف کا نام بلیک لسٹ سے نکال دیا ہے، یہ اقدام لاہور ہائیکورٹ کے حکم پر اٹھایا گیا ہے۔

یاد رہے کہ میاں حمزہ شہباز نے بلیک لسٹ سے نام نکالنے کیلئے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا، ان کی درخواست میں وزارت داخلہ، پاسپورٹ امیگریشن حکام اور نیب کو فریق بنایا گیا۔

پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر نے لاہور ہائیکورٹ میں دائر آئینی درخواست میں موقف اختیار کیا تھا کہ گزشتہ سال نومبر میں ایئرپورٹ پر پتا چلا کہ ان کا نام بلیک لسٹ میں ہے، انہوں نے وزارت داخلہ کو نام بلیک لسٹ میں ڈالنے کیلئے خطوط لکھے مگر جواب نہیں ملا، نیب میں بعض مقدمات زیر انکوائری ہونے کی بنیاد پر نام بلیک لسٹ میں ڈالا گیا، نیب کی تمام انکوائریوں میں باقاعدگی سے شامل تفتیش ہو رہا ہوں۔

حمزہ شہباز کی جانب سے درخواست میں مزید کہا گیا تھا کہ وزارت داخلہ کو بلا جواز کسی پاکستانی کی نقل و حرکت روکنے کا اختیار نہیں، لاہور ہائیکورٹ وزارت داخلہ کو نام بلیک لسٹ سے نکالنے کا حکم دے۔

اس درخواست پر لاہور ہائیکورٹ نے حمزہ شہباز کو 10 روز کیلئے بیرون ملک جانے کی اجازت دیتے وہئے ان کا نام بلیک لسٹ میں شامل کرنے پر وزارت داخلہ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کیا تھا۔

16 جنوری کو لاہور ہائیکورٹ میں اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز کا نام بلیک لسٹ میں ڈالنے کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی۔ دوران سماعت عدالت نے استفسار کیا کہ حمزہ شہبازکا نام ای سی ایل میں کیوں ڈالا گیا؟ جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ نیب کرپشن کے مقدمات پر تحقیقات کر رہا ہے۔

جسٹس فرخ عرفان نے ریمارکس دیئے کہ بتایا جائے کیسے حمزہ شہباز کا نام ای سی ایل میں ڈالا گیا؟ کیا امکانات ہیں کہ حمزہ واپس نہیں آئیں گے؟

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ اسحاق ڈار بیرون ملک فرار ہیں۔ جسٹس فرخ عرفان نے ریمارکس میں کہا کہ اگر نیب کسی کیخلاف تحقیقات کرے تو کیا اس کو بیرون ملک جانے سے روک دیا جائے؟

عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ نیب جس طرح کام کر رہا ہے ججز نیب سے نالاں ہیں، کیا ملک نیب چلائے گی، پارلیمنٹ کو ختم کر دیں؟



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎